ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گیس سیکٹر بحران: آئی ایم ایف کا دباؤ بڑھ گیا، نئی لیوی کی تجویز

5 روپے لیوی اور ڈیویڈنڈ پلان،  آئی ایم ایف کا اصلاحاتی تجاویز پرغور جاری ہے

گیس سیکٹر بحران: آئی ایم ایف کا دباؤ بڑھ گیا، نئی لیوی کی تجویز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: پاکستان کے توانائی شعبے پر بڑھتے مالی دباؤ کے تناظر میں عالمی مالیاتی ادارے نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے مزید وضاحت طلب کر لی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق گیس سیکٹر میں تیزی سے بڑھتا گردشی قرض توانائی نظام کیلئے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ذرائع وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق حکومت نے اس مسئلے کے حل کیلئے ایک جامع منیجمنٹ پلان آئی ایم ایف کو پیش کر دیا ہے۔

پلان کے تحت گیس پر 5 روپے فی یونٹ لیوی عائد کرنے، سرکاری کمپنیوں کے ڈیویڈنڈ کے ذریعے قرض میں کمی لانے اور سالانہ 35 ایل این جی کارگوز عالمی منڈی میں فروخت کرنے کی تجویز شامل ہے، جس سے تقریباً 160 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔

مزید برآں، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کی ریکوری بہتر بنا کر 61 ارب روپے اضافی وصولیوں کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس وقت گیس سیکٹر کا گردشی قرض تقریباً 3400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور دیگر کمپنیوں کے تقریباً 150 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

آئی ایم ایف نے پیش کردہ منصوبے پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے مزید تفصیلات طلب کر لی ہیں، جس کے بعد حکومت کو اپنی حکمتِ عملی مزید واضح کرنا ہوگی۔