شہید ملت ، پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی آج 71 ویں برسی

Liaqat Ali Khan death anniversary
Liaqat Ali Khan

ویب ڈیسک:   شہید ملت ، قائدملت پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی آج 71 ویں برسی منائی جارہی ہے۔

 پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1895 کو کرنال میں پیدا ہوئے ان کے خاندان کا شمار بھارت کے بڑے تعلقہ داروں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے 1918ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا اور 1922ء میں انگلستان سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔     وطن واپسی کے بعد انہوں نے سیاست میں فعال حصہ لینا شروع کیا۔ 1926ء میں وہ یو پی کی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1933ء میں وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور 1937ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے۔ قائداعظم انہیں اپنا دست راست کہا کرتے تھے۔

1946ء میں جب  مشترکہ ہندوستان کی ایک عبوری کابینہ قائم کی گئی تو لیاقت علی خان اس میں وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس وزارت کے اہتمام میں انہوں نے ایک شاندار بجٹ پیش کیا جسے غریب کا بجٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیاقت علی کی پہلی شادی ان کی کزن جہاں آرا سے ہوئی  ان کے بیٹے کا نام وِلایت علی خان تھا۔ تاہم گل رعنا ان کی دوسری بیوی تھیں۔

لیاقت علی  خان کو فوٹو گرافی کا شوق تھا انھوں نے باقاعدہ موسیقی سیکھی تھی 1947 میں آزادی کے بعد نوابزادہ لیاقت علی نے اپنا بنگلہ پاکستان کو عطیہ کر دیا تھا۔اسے آج بھی پاکستان ہاؤس کہا جاتا ہے اور وہاں  بھارت میں تعینات پاکستان کے سفیر رہتے ہیں۔قیام پاکستان کے بعد وہ اس نئی مملکت کے پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ 1951میں جب بھارت نے پاکستان کی سرحدوں پر اپنی فوجیں جمع کردی تھیں تو وزیراعظم نے نے اپنا تاریخی مُکا لہرایا جس کے باعث بھارت میں سراسیمگی پھیل گئی اور بمبئی کے اسٹاک ایکسچینج میں زبردست مندی آگئی۔

16 اکتوبر 1951ء کو راولپنڈی میں علی اکبر نامی شخص نے انہیں گولی مار کر شہید کردیا۔  تاہم قاتل کو بھی موقع پر ہی گولی مار دی گئی ۔قتل کے دس روز بعد ہی یعنی 25 اکتوبر 1951 کو اُس وقت کی حکومت نے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے دیا تھا جو فیڈرل کورٹ کے جج جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں پنجاب کے مالیاتی کمشنر جناب اختر حسین پر مشتمل تھا۔       اس کمیشن کی رپورٹ کی اشاعت کے دس دن بعد 26 اگست 1952 کو پاکستان کے انسپکٹر جنرل سپیشل پولیس نوابزادہ اعتزاز الدین کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز پشاور جا رہے تھے جب طیارہ کھیوڑہ کے مقام پر حادثے کا شکار ہوا۔  اہم کاغذات کی فائلیں بھی تھیں جو اس حادثے کے ساتھ ہی جل کر راکھ ہوگئیں ۔ اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے قتل پر اسرار کے گہرے پردے پڑ گئے ۔