(ویب ڈیسک) ڈائریکٹر جنرل سٹریٹجک پراجیکٹس جی ایچ کیو میجر جنرل (ر) شاہد نذیرنے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب زرعی شعبے میں ایک طویل ساتھ کا آغاز کر رہے ہیں۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت پاکستان میں زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع ہیں اور پاکستان انویسٹمنٹ کیلئے بہترین ملک ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایات کے تحت ملک میں غذائی تحفظ کے لئے اس منصوبے کا آغاز کیا گیا۔
پاکستان کے سٹریٹیجک پروجیکٹس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل (ر) شاہد نذیرنے یہ باتیں آج ڈالفا کیٹل شو 2026 (DALFA Cattle Show) کی افتتاحی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ اس تقریب میں سعودی عرب کے نائب وزیر زراعت ڈاکٹر سلمان بن علی الخطیب اور سعودی عرب کے نائب وزیر برائے زراعت، انجینیئر احمد بن صالح العیادہ (Eng. Ahmed bin Saleh Al-Ayada) بھی موجود تھے۔آج ڈالفا کیٹل شو 2026 (DALFA Cattle Show) کی افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر سلمان بن علی الخطیب اور انجینئیر احمد بن صالح العبادہ کے ساتھ خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل شاہد نذیر نے بتایا کہ جی پی آئی کا آغاز 2 برس قبل ہوا۔جی پی آئی کا مقصد نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا تھا۔ انہوں نے کہا، الخریف کمپنی اس عظیم سفر میں ہمارے ساتھ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زراعت غلط ہو تو کچھ اور صحیح نہیں ہو سکتا۔
میجر جنرل ر شاہد نذیر نے کہا کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت پاکستان میں زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع ہیں اور پاکستان انویسٹمنٹ کیلئے بہترین ملک ہے۔کسانوں کو اعانت فراہم کرنا اس منصوبے کی بنیاد ہے۔آج ہمارے پاس نجی شعبے میں 64 بڑے کارپوریٹ فارمز ہیں۔ بلوچستان میں زیتون اور سندھ میں پام آئل کے فارمز قائم ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پورے پاکستان میں 40 گرین ایگری مال موجود ہیں۔ بینکوں کی شراکت داری سے ایگری قرضوں کی سہولت دے رہے ہیں۔ کاشتکاروں کو ایگری لون کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
میجر جنرل ر شاہد نذیر نے کہا کہ اسی طرح کے اقدامات لائیو سٹاک کے شعبہ میں بھی کئے گئے ہیں۔ اینیمل بریڈنگ پالیسی اور اینیمل ہیلتھ ایکٹ متعارف کرایا گیا ہے۔ سٹیل کتاب، چارے، آئل سیڈ کراپس کے حوالے سے تعاون کے فروغ کی گنجائش ہے۔ ہمارا سلوگن ماڈرنائز، میکانائز اور میکسیمائز ہے۔ ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم کے تحت پانی کی 80 فیصد بچت کی جا رہی ہے۔ جی پی آئی کے تحت لائیو سٹاک پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ جی پی آئی کے تحت 2 برس میں 1 ارب پودے لگائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب پاکستان میں جانوروں کی منہ کھر کی بیماری کی ویکسین بھی تیار کی جا رہی ہے۔ لائیو سٹاک کی برآمد کے لئے جانوروں کے ڈیزیز فری زونز بھی قائم کئے جا رہے ہیں۔ گندم، چارے، دالوں اور مکئی کی فصل میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ حلال گوشت کی صنعت میں بھی تعاون کے مواقع ہیں۔بینکوں کی شراکت داری سے ایگری قرضوں کی سہولت دے رہے ہیں،کاشتکاروں کو ایگری لون کی سہولت فراہم کر رہے ہیں،اسی طرح کے اقدامات لائیو سٹاک کے شعبہ میں بھی کئے گئے ہیں،اینیمل بریڈنگ پالیسی اور اینیمل ہیلتھ ایکٹ متعارف کرایا گیا ۔