ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فلپائن:مسلم اکثریتی بنگسامورو خود مختار علاقے میں مدتوں بعد پہلی بار پارلیمانی انتخابات کا انعقاد

فلپائن:مسلم اکثریتی بنگسامورو خود مختار علاقے میں مدتوں بعد پہلی بار پارلیمانی انتخابات کا انعقاد
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: GOOGLE
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: فلپائن کے مسلم اکثریتی بنگسامورو خود مختار علاقے میں کئی دہائیوں کی شورش اور تشدد کے بعد پہلی بار پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہوا ہے۔ انتخابات کے دوران فائرنگ اور دیگر واقعات کے باوجود 80نشستوں کیلئے لاکھوں ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جسے خود حکمرانی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق فلپائن کے مسلم اکثریتی جنوبی خطے بنگسامورو خود مختار علاقے میں پیر کے روز پہلی بار پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی خبر کے مطابق ان انتخابات کو کئی دہائیوں سے جاری شورش اور تشدد کے بعد خود حکمرانی کی جانے والی طویل اور مسلسل کوششوں میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اتوارکوتا باتو سٹی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ۳؍افراد ہلاک اور ۱۵؍زخمی ہوگئے، جس کے بعد شہر کا انتظام الیکشن کمیشن کے کنٹرول میں دے دیا گیا۔ کمیشن کے چیئرمین ایرون گارشیا نے بتایا کہ شہر کے لیے ایک منتظم مقرر کیا جائے گا۔ 

مسلم اکثریتی بنگسامورو خود مختار علاقے میں ایک اور واقعے کے دوران ایک دیسی ساختہ بم پھٹ گیا، جس سے دھماکا خیز مواد لے جانے والا شخص زخمی ہوگیا۔ ایک مقام پر فائرنگ بھی ہوئی، تاہم اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ باسی لان کے علاقے میں واقع قصبے مالوسو کو بھی الیکشن کمیشن کے کنٹرول میں دے دیا گیا، جہاں 28میں سے36 پولنگ مراکز میں پہلے سے نشان زد بیلٹ پیپرز ملے تھے۔ گارشیا کے مطابق معاملہ سامنے آتے ہی متاثرہ پولنگ مراکز کے لیے نئے بیلٹ پیپرز چھاپنے کا حکم دے دیا گیا۔ انتخابات کے دوران سکیورٹی کیلئے20ہزار سے زائد فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ بھاری ہتھیاروں سے لیس اہلکار سڑکوں پر گشت کرتے رہے۔ ان انتخابات میں پارلیمنٹ کی80نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ بنگسامورو خطے میں 5صوبے، 3؍شہر اور 63؍قصبے شامل ہیں، جہاں تقریباً 25لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ انتخابی حکام نے توقع ظاہر کی کہ ووٹنگ کا تناسب 80؍فیصد تک رہ سکتا ہے۔