ویب ڈیسک: آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں حکومت اورآئی ایم ایف کے درمیان اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تکنیکی سطح پر جاری مذاکرات میں مالیاتی حکام نے عالمی ادارے کے ساتھ تفصیلی ڈیٹا شیئر کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں 400 ارب روپے سے زائد کے اضافی ٹیکس اقدامات زیر غور ہیں، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو بجٹ سازی کے عمل میں کلیدی کردار سونپ دیا گیا ہے اور ان کی سربراہی میں قائم کمیٹی ٹیکس تجاویز اور پالیسی سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے زرعی آمدن پر مؤثر ٹیکس وصولی کو تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے 683 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں چاروں صوبوں کی جانب سے زرعی آمدن پر مکمل ٹیکس نفاذ کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کو اپنے ریونیو اہداف اور مجموعی معاشی اہداف پر نظرثانی کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔
بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف وفد کو آگاہ کیا گیا کہ معاشی شرح نمو کا 4.2 فیصد ہدف حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 13 ہزار 989 ارب روپے کا نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف بھی خطرے میں ہے۔
مزید برآں، عالمی مالیاتی ادارے نے تیل کی عالمی قیمتوں کا بوجھ براہِ راست صارفین تک منتقل کرنے پر زور دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ مالی سال میں اب تک صارفین سے 1330 ارب روپے سے زائد کی پیٹرولیم لیوی وصول کی جا چکی ہے، جبکہ مجموعی ہدف 1468 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
خسارہ کم کرنے کے لیے آئی ایم ایف نے مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ نئے بجٹ میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور سماجی تحفظ کے شعبوں کے لیے زیادہ وسائل مختص کیے جائیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحت اور تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار کا کم از کم 3 فیصد خرچ کیا جائے اور نیشنل فسکل پیکٹ پر عمل درآمد میں مزید تاخیر نہ کی جائے، واضح کیا گیا ہے کہ اس حوالے سے کسی قسم کی نرمی یا رعایت نہیں دی جائے گی۔