ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سیلاب سندھ میں پھیل گیا، اسی فیصد کچا زیرآب، گڈوبیراج کو خطرہ

Sindh Flood, City42, Sindhu river flooding, Kacha, Karachi, monsoon

 سٹی42: پنجاب میں لاکھوں افراد کو بے گھر کرنے والے سیلاب کے تمام ریلے سندھ دریا میں شامل ہو کر سندھ پہنچ گئے۔ سندھ میں دریائے سندھ کے  دونوں اطراف سینکڑوں مربع کلومیٹر رقبہ  میں  سیلابی پانی پھیل گیا۔ ہزاروں چھوٹے گاؤں پانی میں ڈوب گئے۔ بڑے پیمانہ پر نقل مکانی ہو رہی ہے۔

ہفتہ کی شام تک اطلاعات کے مطابق سندھ میں کچے کے 80 فیصد علاقے  میں سیلاب کا پانی پہنچ چکا ہے۔ اب سندھو دریا میں سیلاب کا بہت بڑا ریلا  صوبہ سندھ کے جنوبی حصے کی طرف بڑھنے لگا ہے۔ اس سے کئی شہروں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

     سندھ کے مختلف علاقوں سے آنے والی رپورٹوں ور کراچی میں صوبائی حکومت کے اداروں کی مصدقہ رپورٹوں کے مطابق آج ہفتے کی شام تک کچے کے 80 فیصد علاقے سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں۔  اور اب ، سندھو دریا میں بڑا سیلابی ریلا  صوبہ سندھ کے جنوبی حصے کی طرف بڑھ رہا ہے۔

 گھوٹکی میں کچے کے 20 سے زائد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔  کندھ کوٹ میں کچے کے 80 فیصد علاقے سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں اور سینکڑوں گاؤں سیلاب کے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔  اوباڑو، نوشہرو فیروز میں بھی کئی گاؤں سیلاب کے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔کمال ڈیرو کے قریب دریائے سندھ میں متاثرین کی کشتی الٹ گئی، مقامی افراد نے ڈوبنے والے پانچوں افراد کو  زندہ بچالیا ہے۔

گڈو بیراج پر تباہ کن ریلا 15 ستمبر کو  پہنچے گا

دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے سے مزید کچے کے دیہات زیرآب آگئے ہیں، گڈو بیراج پر 15 ستمبر کو انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال پيدا ہو سکتی ہے۔

دریائے سندھ کے برڑا پتن پر پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ ہوا، بہاؤ 4 لاکھ 22 ہزار 400 کیوسک بتایا جا رہا ہے۔ 

سندھ دریا کا سیلابی پانی  نوڈیرو کے دیہات میں بھی داخل ہو گیا۔  زمینی راستے بند ہو گئے۔ مکین کشتیوں کے ذریعے نکلنے پر مجبور ہو گئے۔

 نوڈیرو میں تاحال ریسکیو ٹیمیں گاؤں نہیں پہنچ سکی ہیں، سیلابی پانی سے چاؤل، مکئی اور تیلوں کی فصلوں کو شدید نقصان ہو رہا ہے۔

فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گڈوبیراج پر پانی کا بہاؤ بڑھ کر 5 لاکھ37 ہزار کیوسک ہوگیا جسے اونچے درجے کا سیلاب قرار دیا گیا، سکھر اور کوٹری بیراج پر بھی پانی کی آمد بڑھ گئی، سکھربیراج پرپانی کی آمد 4لاکھ 60 ہزار کیو سک ریکارڈکی گئی جبکہ کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

دریا ئے سندھ میں کوٹ مٹھن راجن پور ، چاچڑاں شریف پر پانی کی آمد میں بھی اضافہ ہوگیا، پانی کی سطح بلند ہوکر 11.4 فٹ پر آگئی۔ہیڈ پنجند کا سیلابی ریلا کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہورہا ہے جس کی وجہ سے کچے کے علاقوں میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔