ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

آئندہ مالی سال کاوفاقی بجٹ کل پیش کیا جائے گا

آئندہ مالی سال کاوفاقی بجٹ کل پیش کیا جائے گا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: آئندہ مالی سال کاوفاقی بجٹ کل پیش کیا جائے گا۔

وفاقی بجٹ کا حجم ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہونے کا امکان ہے ۔ سود کی ادائیگیوں کے لیے7 ہزار 800 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے ۔ دفاعی بجٹ 2 ہزار 900 ارب سے 3 ہزار ارب روپے کے درمیان ہوسکتا ہے۔وفاقی بجٹ میں سبسڈیز کے لیے 1100 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے ۔  

وفاقی ترقیاتی بجٹ کی مد میں ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز  دی گئی ۔ پینشن کی مد میں 1100 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے ۔ حکومتی امور چلانے کے لیے 900 ارب روپے کا بجٹ مختص کیے جانے کا امکان  ہے ۔ صوبوں کو 8 ہزار ارب روپے سے زائدمنتقل کیے جانے کا امکان  ہے ۔ آئندہ مالی سال ہنگامی اخراجات کے لیے350 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز  دی گئی ۔ ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 15 ہزار ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دی گئی ۔ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار ارب روپے سے زائد مقرر کرنےکی تجویز  دی گئی ۔ وفاق کی خالص آمدنی کا تخمینہ 11 ہزار ارب روہے سے زائد ہوسکتا ہے۔ براہ راست ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7400 ارب روپے سے زائد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ۔ سیلزٹیکس کا ہدف 4700 ارب روپے سے زائد مقرر کرنے کی تجویز  دی گئی ۔ 

کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1650 ارب روپے کی وصولیوں کاہدف رکھنے کی تجویز  جبکہ ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ایک ہزار ارب روپے سے زائد کی وصولیوں کا ہدف تجویز  ہے ۔ 

آئندہ مالی سال کا مجموعی بجٹ خسارہ 3 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہوسکتا ہے۔صوبائی سرپلس کونکال کر وفاقی حکومت کابجٹ خسارہ ساڑھے5 ہزارارب روپے سے زیادہ ہوسکتا ہے