سٹی42: عمران خان نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ آنے اور اپنے خلاف سانحہ 9 مئی کے مقدمات کے منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور سے زبردستی استعفیٰ دلوا کر خیبر پختونخوا کے جنگ زدہ صوبہ کو تو بدترین کیاؤس میں دھکا دے دیا لیکن پی ٹی آئی کا رہا سہا بھرم بھی پارہ پارہ کر ڈالا۔
آج 9 اکتوبر کی شام خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کا ایک بھی رکن باقی نہیں رہا اور صوبائی اسمبلی میں یا تو اپوزیشن جماعتیں ہیں یا 92 آزاد ارکان ہیں جن کے متعلق اب تک کسی کو پتہ نہیں کہ کس کا قبلہ کدھر ہے۔ ذمہ دار ذرائع بتا رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں جنم لینے والا کیاؤس راتوں رات پی ٹی آئی کے اندر گھس گیا ہے اور اب پی ٹی آئی میں چئیرمین سمیت بہت سے عہدوں پر اتھل پتھل ہونے جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے بانی چئیرمین اور ان کی بیگم بشریٰ بی بی پر نیب کے بنائے ہوئے دوسرےتوشہ خانہ کیس کی سماعت میں آج بانی اور ان کی بیگم کے سیکشن سکیشن 342 کے بیانات ہو ئے۔ یہ بیان کسی فوجداری مقدمہ میں سماعت تقریباً مکمل ہونے کے مرحلہ میں لئے جاتے ہیں۔ اب دونوں ملزموں کے وکیلوں کو اپنے حتمی دلائل مکمل کرنا ہیں جس کے بعد عدالت سماعت مکمل ہونے کا اعلان کرے گی اور فیصلہ سنا دے گی یا فیصلہ محفوظ کر لے گی جسے معزز جج اسی روز بعد میں کچھ گھنٹے بعد یا کسی بھی وقت سنا دیں گے۔
ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور کو وزارتِ اعلی سے استعفیٰ دلوا کر پی ٹی آئی کے اڈیالہ جیل میں قید کی سزا کاٹ رہے بانی چئیرمین عمران خان ن اپنی سزاؤں کے خاتمہ پر مجبور کرنے کے لئے سخت قسم کا احتجاج کروانا چاہتے ہیں جس کی کوئی صورت نطر نہیں آ رہی۔ اس احتجاج کے لئے آخری کوشش گزشتہ مہینے کے وسط میں پشاور میں "ایک کروڑ کا جلسہ" کروا کے کی گئی، اس جلسے میں کچھ ہزار ہی افراد شریک ہوئے اور یہ سرگرمی میڈیا میں نمایاں ہیڈلائنز نہیں بنوا سکی تھی۔
اس جلسہ کے ناکام ہونے کے بعد آج اچانک عمران خان نے اپنی ہی پارٹی پر خودکش حملہ کر دیا ہے، بتایا جا رہا ہے کہ وہ علی امین گنڈاپور کے بعد کئی اہم عہدیداروں کو بھی ہٹانے والے ہیں۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا اسمبلی میں نئی صورتحال یہ سامنے آئی ہے کہ اسمبلی میں اب صرف اپوزیشن جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام کے ارکان ہیں اور 92 آزاد ارکان ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ پر موجود دستاویز کے مطابق صوبائی اسمبلی میں آزاد ارکان کی تعداد 91 ہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک رکن سنی اتحاد کونسل کا شمار کیا جا رہا ہے جس کے بارے میں آئینی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ وہ بھی آزاد ہی شمار ہو گا کیونکہ سنی اتحاد کونسل نے خیبر پختونخوا سے اپنے ٹکٹ پر الیکشن لڑا ہی نہیں تھا۔
آئینی پوزیشن؛ وزیراعلیٰ اب تک علی امین گنڈاپور
خیبر پختونخوا میں کیاؤس کا یہ عالم ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اپنے تئیں استعفیٰ دے چکے ہیں لیکن آج گورنر فیصل کریم کنڈی کے ذرائع نے بتایا کہ گورنر کو کسی استعفے کی ثمری موصول نہیں ہوئی۔ ان ذرائع کے مطابق آئین کے تحت وزیر اعلیٰ کے استعفے کی ثمری منطوری کے لئے گورنر کو بھجوائی جاتی ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی طرف سے آج جمعرات کی شام تک استعفے کی ثمری بنا کر گورنر کو منطوری کے لئے نہیں بھیجی گئی۔ علی امین گنڈا پور اپنے تئیں وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دے کر ڈیرہ اسمعیل خان اپنے گھر چلے گئے ہیں۔ ان کا استعفیٰ گورنر ہاؤس کو موصول نہیں ہوا، آئین کے مطابق اب تک وزیر اعلیٰ وہی ہیں۔
اس کنٹروورسی پر پی ٹی آئی کا جو مؤقف سامنے آیا وہ یہ ہے کہ علی امین گنڈاپور نے استعفا لکھ کر گورنر کو بھیجا جس کو وصول کرنے کی رسید مل چکی ہے۔ تاہم ااس آئینی نلتے پر پی ٹی آئی کا کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا کہ استعفے کی ثمری کہا ہے۔
پی ٹی آئی میں بڑی تبدیلیاں ہونے والی ہیں
خیبر پختونخوا میں علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ قبول ہونے یا نہ ہونے سے الگ پی ٹی آئی کے اندر بھیراتوں رات زبردست کیاؤس پیدا ہو گیا ہے۔ ذمہ دار ذرائع بتا رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے نئے چئیرمین کا نام سامنے آ گیا ہے۔ بیرسٹر علی گوہر کو چئیرمین کے عہدہ سے ہٹایا جا رہا ہے اور ان کی جگہ لینے کے لئےنئے چئیرمین کا نام سامنے آ گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر کو بھی ہٹائے جانے کی قیاس آرائی پر پی ٹی آئی کا کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا، ذرائع بتا رہے ہیں کہ بانی کی ہدایت پر جنید اکبر کو نیا چئیرمین بنایا جائے گا۔ ذرائع بتا رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری انفارمیشن شیخ وقاص اکرم کو ہٹا کر رؤف حسن کو لا رہے ہیں۔ پی ٹی ٓئی میں مزید کئی عہدوں پر اتھل پتھل ہونے والی ہے۔
خیبر پختونخوا میں سرکاری سوشل میڈیا ٹیم غائب
ذرائع نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور اپنی سوشل میڈیا ٹیم کو اپنے ساتھ ڈیرہ اسمعیل خان لے گئے ہیں۔ اب تک یہ ٹیم خاموش ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان پی ٹی آئی کی گرفت سے آزاد
جمعرات کی رات صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کا صوبائی تنظیم کا ڈھانچہ تو ہے لیکن پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کا کوئی وجود ہی باقی نہیں رہا۔ اس وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق کے پی کے اسمبلی میں پی ٹی آئی کا ایک بھی رکن نہیں ہے۔
صوبائی اسمبلی میں تمام جماعتوں کے ارکان کی فہرست اور 92 آزاد ارکان کی فہرست 6 اکتوبر کو الیکشن کمیشن کی ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کی گئی ہے۔ آئین اور قانون کے مطابق اگر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ گورنر فیسل کریم کنڈی منطور کر لیتے ہیں تو نئےوزیر اعلیٰ کے انتخاب کا آئینی پروسیس آغاز ہو جائے گا۔ اس پروسیس میں سیاسی جماعتیں اپنے امیدوار نامزد کریں گی، صوبائی اسمبلی کے سپیکر الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق وزیر اعلیٰ کا الیکشن کروائیں گے۔ اسالیکشن میں کون سا آزاد امیدوار کدھر ہو گا، اس کے بارے میں آج جمعرات کی شب تک کوی کو کچھ معلوم نہیں۔
صرف علی امین گنڈاپور کی پوزیشن واضح، باقی مکمل کیاؤس
اب تک صرف علی امین گنڈاپور نے اپنی پوزیشن واضح کی ہے، انہوں نے کل 8 اکتوبر کو بتایا کہ وہ عمران خان کے نامزد کئے ہوئے وزیر اعلیٰ کے امیدوار کی حمایت کریں گے۔ ؛یلم اب تک صوبائی اسمبلی کے کسی دوسرے رکن نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ علی امین گنڈاپور کے وزارت اعلیٰ سے ہٹنے کی صورت میں کس امیدوار کی حمایت کریں گے۔
جنید اکبر کی بے اختیار ہدایات
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے"اپنے" ارکان اسمبلی کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ آئندہ دنوں کے دوران ملک کے اندر موجود رہیں۔ لیکن عملاً جنید اکبر کا ملک میں موجود ارکان اسمبلی پر بھی کوئی اختیار نہیں۔ کا کسی پر کوئی اختیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق اس وقت دو اپوزیشن اور تین آزاد ارکان ملک سے باہر ہیں۔
اپوزیشن مشترکہ امیدوار لائے گی
پشاور مین اپوزیشن کی پارٹیوں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی جانب سے آج عندیہ دیا گیا کہ اپوزیشن نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لئے مشترکہ امیدوار لائے گی۔ یہ امیدوار خیبر پختونخوا اسمبلی کا کوئی آزاد رکن بھی ہو سکتے ہیں اور جمعیت علما اسلام کا کوئی رکن بھی اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کے متفقہ امیدوار بن سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری ملک حبیب نور اورکزئی : جے یو آئی اور آزاد کوئی بھی وزیراعلیٰ آ سکتا ہے۔
آج شام تک پشاور میں ارکان اسمبلی کی جوڑ توڑ کا آغاز ہو چکا ہے تاہم اب تک سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی رسمی گفتگوؤں کے سوا کئی بات سامنے نہین لائی گئی۔
شیر افضل روت اور فیصل کریم کنڈی کے الک الک وار،مولانا فضل الرحمان کی بے سمت گفتار
علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ دینے کے اعلان کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈاپور کے ساتھ پرانی چپقلش کے تناظر میں ان کے وزارت اعلیٰ چھوڑ دینے کو صوبہ کے لئے نعمت قرار دیا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ وہ تب ہی قبول کریں گے جب آئینی تقاضے پورے ہو چکے ہوں گے۔ اس کے بعد آج گوریر ہاؤس کی طرف سے بتایا گیا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفی نہیں استعفے کی ثمری گورنر کو بھجوائی جانا چاہئے، یہ ثمری اب تک گوریر کو نہیں ملی۔
پی ٹی آئی کے سابق ہو چکے رہنما شیر افضل مروت نے علی امین گنڈاپور کو زبردستی استعفے پر مجبور کئے جانے کو علیمہ خان کا کارنامہ قرار دیا اور اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔
بانی چئیرمین کے احکام کی آئینی پوزیشن
اس دوران آج پی ٹی آئی کے بانی رکن اور سابق سینئیر رہنما اکبر ایس بابر بانی کی پارٹی اور حکومت کو ڈکٹیشن کے خلاف میدان میں آ گئے ہیں۔
البر ایس بابر نے آج یہ بنیادی نکتہ اٹھایا ہے کہ پی ٹی آئی کے آئین میں "بانی چئیرمین" کے پارٹی کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں، اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آئین میں ایسی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ "بانی چئیرمین" کوئی عہدہ نہ رکھنے کے باوجود پارٹی کو ڈکٹیٹ کرے۔
مولانا فضل الرحمان کی گومگو
جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی۔ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دو دن پہلے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب جب کہ علی امین ہٹ چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان کہہ رہے ہیں کہ وہ نئے حالات کو اچھی طرح دیکھنے کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے۔ پہلے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ نے صوبے کو برباد کردیا ہے، علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا کے مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلی خیر پختونخوا کو ایک دن بھی عہدے پر نہیں رہنا چاہیے۔
علی امین کے ہٹ جانے کے بعد مولانا فضل الرحمان نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خود کو پی ٹی آئی سے الگ کرتے ہوئے کہا کہ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ پی ٹی آئی کے دوست 26ویں آئینی ترمیم سے کیسے پیچھے ہٹ گئے؟ یہ ترمیم 27 صفحات پرمشتمل ہے اوراس پرسینٹ، قومی اسمبلی اور حکومت نے جے یو آئی کی تعریف کی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے ججوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی بات کر رہے ہیں لیکن وہ آئینی ترمیم کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی مذاکرات کی دعوت دے تو ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاق میں پی ٹی آئی، جبکہ کے پی اور بلوچستان میں جے یو آئی کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے، حکومت اس وقت اقلیت میں ہے اورپیپلز پارٹی درحقیقت حکومت کا حصہ نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے فیصلے کے بعد صورتحال کا بغور جائزہ لے کراسمبلی میں فیصلہ کیا جائے گا اگر صوبے میں بدامنی کا ادراک خود پی ٹی آئی کو ہوگیا ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔






