خورشید رحمانی: نجی کارگو ایئرلائن کے لاپتہ طیارے کے کیپٹن رضوان ادریس کے بیٹے شہیر رضوان نے بتایا ہے کہ ان کی اپنے والد سے آخری مرتبہ گزشتہ شام 7 بج کر 20 منٹ پر بات ہوئی تھی۔
شہیر رضوان کے مطابق کیپٹن رضوان ادریس پیر کے روز کارگو طیارہ کراچی سے شارجہ لے کر گئے تھے، جبکہ منگل کو ان کی واپسی کراچی کے لیے تھی انہوں نے بتایا کہ گزشتہ شام 7:20 بجے والد سے آخری مرتبہ گفتگو ہوئی، جس کے بعد میڈیا کے ذریعے طیارے کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی۔
شہیر رضوان نے کہا کہ وہ افواجِ پاکستان کے شکر گزار ہیں، جو کاک پٹ کریو کی تلاش کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔
اُنہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف، صدرِ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل کی کہ سرچ آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے تاکہ لاپتہ عملے کا جلد از جلد سراغ لگایا جا سکے۔
شہیر رضوان کا کہنا تھا، "ہم نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، ہم سب ایک معجزے اور اچھی خبر کے منتظر ہیں۔"