سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی اہمیت کے اہم منصوبوں کی شفافیت کے ساتھ بر وقت تکمیل ہماری ترجیح ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں کے بروقت تکمیل کے حوالے سے لائحہ عمل پر اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا۔
وزیراعظم نے ترقیاتی منصوبوں کے مختلف مراحل میں اصلاحات کے حوالے سے جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں اصلاحات کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اسٹیک ہولڈرز کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی صدارت خود کروں گا۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اصلاحات میں معاونت پر وزیراعظم نے شراکت داروں، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا شکریہ ادا کیا ۔
اجلاس کو عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے انسانی وسائل کو منصوبوں کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی کے مقاصد اور امنگوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔
اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ بروقت پروکیورمنٹ نہ ہونا ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی بنیادی وجہ ہے۔ای-پروکیورمنٹ اور پراجیکٹ ریڈی نیس کی سہولیات کی فراہمی سے پروکیورمنٹ کو تیز رفتار بنایا جا سکتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں منظوری کے کئی مراحل شامل ہوتے ہیں جن کو سہل بنانے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں اصلاحات کے حوالے سے چار ورکنگ گروپس بنانے کی تجویز دی گئی۔ پہلا ورکنگ گروپ ترقیاتی منصوبوں کے منظوری کے مراحل اور تیاری کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا ۔ دوسرا ورکنگ گروپ پروکیورمنٹ کو جدید اور شفاف خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا۔ تیسرا ورکنگ گروپ منصوبوں کے لئے زمین کے حصول اور ری-سیٹیلمینٹ کے معاملات میں اصلاحات لانے کے حوالے سے ہو گا جبکہ چوتھا ورکنگ گروپ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انسانی وسائل اور اسٹاف کی تعیناتی کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ, وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ, وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس خان لغاری ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹرز سمیت متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران موجود تھے۔