راؤ دلشاد: پنجاب میں سونے کے ممکنہ ذخائر کی دریافت کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، حکومت نے نیسپاک سے حتمی رپورٹ 30 اپریل تک طلب کر لی ۔
ذرائع کے مطابق اٹک، میانوالی اور دیگر مختلف علاقوں میں سونے کے ذخائر موجود ہونے کے شواہد ملے ہیں، جن کی مجموعی مالیت کئی سو ارب روپے تک ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ دریائے ستلج کے اطراف بھی سونے کے ذخائر کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیسپاک کی فائنل رپورٹ موصول ہونے کے بعد رواں ماہ ان ذخائر کے لیے بین الاقوامی سطح پر آکشن کیے جانے کا امکان ہے، جس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
حکام کے مطابق رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، اور اگر ذخائر کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ دریافت ملکی معیشت کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔