ویب ڈیسک: پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت ڈبے کے دودھ پر سیلز ٹیکس میں کمی کے امکانات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ ٹیکسز نے نہ صرف ڈیری مصنوعات کو مہنگا کیا بلکہ اس صنعت کی ترقی کی رفتار کو بھی متاثر کیا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ حالیہ مالیاتی پالیسیوں کے باعث باقاعدہ ڈیری سیکٹر سکڑتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں دودھ اکٹھا کرنے کے مراکز بند ہو رہے ہیں اور مقامی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ڈیری سیکٹر نہ صرف اندرون ملک غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ برآمدات کے حوالے سے بھی نمایاں امکانات رکھتا ہے، تاہم زیادہ ٹیکسز اس صلاحیت کو محدود کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر ڈبے کے دودھ پر سیلز ٹیکس میں نرمی کی جائے تو پیداوار میں اضافہ ممکن ہے اور طویل مدت میں حکومتی آمدن بھی بہتر ہو سکتی ہے۔
سیمینار میں یہ بھی بتایا گیا کہ مویشی بانی کا شعبہ زرعی معیشت کا تقریباً 60 فیصد حصہ ہے، اس لیے اس پر نافذ ٹیکس پالیسیوں کے اثرات براہ راست قومی معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔
ماہرین نے تجویز پیش کی کہ آئندہ بجٹ میں ایسی اصلاحات متعارف کروائی جائیں جو ڈیری ویلیو چین کو مضبوط بنائیں، غیر رسمی معیشت کو دستاویزی شکل دیں اور دیہی معیشت کو سہارا فراہم کریں۔