(ویب ڈیسک ) بھارتی میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی قربت اب صرف ایک سفارتی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ بھارت کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ قربت، جو 1971 کے بعد پہلی بار اتنی کھل کر دیکھی گئی ہے، بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا بھارت کے مشرقی محاذ پر کوئی نیا خطرہ ابھر رہا ہے؟
بھارت کے ایک بڑے اردو نیوز چینل کی ویب رپورٹ میں کہا گیا کہ بنگلہ دیش کی مسلح افواج اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات کے مزید شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان چھ روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ چھ رکنی وفد بھی جائے گا جس کا مقصد اسلحہ خریدنا ہے۔ حسن محمود خان کا یہ دورہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ڈھاکہ پہنچنے کے صرف چار دن بعد ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش آرمڈ فورسز ڈویژن (اے ایف ڈی) کی ایک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایئر چیف مارشل خان اپنی اہلیہ صالحہ خان کے ہمراہ پاکستان آئیں گے۔ ائیر کموڈور محمد قمر الاسلام، گروپ کیپٹن محمد محبوب الرحمن اور دو فلائٹ لیفٹیننٹ بھی وفد کا حصہ ہی۔وہ 4 سے 9 جنوری تک پاکستان میں ہونگے۔ مسلح افواج کا ڈویژن براہ راست بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے دفتر کے تحت کام کرتا ہے۔
1971 میں آزادی کے بعد بنگلہ دیش کیلئے یہ پہلا موقع ہو گا جب مسلح افواج کا کوئی سینئر سربراہ پاکستان کا سرکاری دورہ کرے گا۔ 11 دسمبر کو تیار کردہ AFD دستاویز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ دورہ بنگلہ دیش اور پاکستان کی فضائی افواج کے درمیان تعاون اور باہمی انحصار کو بڑھا دے گا۔ یہ بنگلہ دیشی فضائیہ کو مستقبل کی منصوبہ بندی اور آپریشنز کا تجربہ بھی فراہم کرے گا۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات میں قربت جنوری 2025 میں شروع ہوئی تھی۔ اس وقت بنگلہ دیش کے پانچ اعلیٰ فوجی افسران پر مشتمل ایک وفد جس کی قیادت لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم۔ قمر الحسن نے راولپنڈی کا دورہ کیا۔ انہوں نے پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں، اور فوراً بعد، پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے3 افسران کے ایک وفد نے جس کی قیادت ایک میجر جنرل کی سربراہی میں کی، ڈھاکہ کا دورہ کیا۔ اس کے بعد سے پاکستانی فوج اور بحریہ کے کئی سینئر افسران باقاعدگی سے بنگلہ دیش کا دورہ کر رہے ہیں جن میں پاکستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف بھی شامل ہیں۔ تازہ ترین دورہ 22 نومبر کو ہوا، جب پاکستان کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل شاکر اللہ خٹک ڈھاکہ پہنچے۔
رپورٹ میں بنگلہ دیش کے دفاعی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کا دورہ بنگلہ دیش فوج کی جدید کاری سے متعلق ہے۔ بنگلہ دیش چینی ساختہ 20 J-10C لڑاکا طیارے خریدنے کی تیاری کر رہا ہے۔ مزید برآں دسمبر 2025 میں اطالوی کمپنی لیونارڈو کے ساتھ کم از کم 10 یورو فائٹر ٹائفون لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے ارادے کے خط پر دستخط کیے گئے۔ بنگلہ دیش کی فوج چھ ترک ساختہ T129 ATAK حملہ آور ہیلی کاپٹر خریدنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ بنگلہ دیش کےایئر چیف مارشل خان کا دورہ پاکستان بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ بنگلہ دیش کی مسلح افواج “فورسز گول 2030” کے تحت فوج، فضائیہ اور بحریہ کی جدید کاری کو تیز کر رہی ہیں۔ مزید برآں، بھارت کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات مسلسل کشیدہ ہیں۔ جہاں سفارتی تعلقات خراب ہوئے ہیں وہیں بنگلہ دیش کا پاکستان کی طرف جھکاؤ اور نقشہ سفارتکاری نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔