ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مفرور ارکان پارلیمنٹ احتجاج کیلئے اڈیالہ جیل نہیں آئیں گے؛  اندر کی کہانی

مفرور ارکان پارلیمنٹ احتجاج کیلئے اڈیالہ جیل نہیں آئیں گے؛  اندر کی کہانی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پی ٹی آئی کی قیادت کی ہدایت پر ارکان اسمبلی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج  کے لئے جمع ہونا بظاہر ممکن  دکھائی نہیں دیتا۔

پی ٹی آئی کے کئی ارکان پارلیمنٹ نو مئی کو ریاست کے اداروں پر حملوں کے مقدمات میں مجرم قرار پا چکے ہیں اور انہیں دس دس سال قید کی سزا  ہو چکی ہے۔ یہ سب ارکان پارلیمنٹ اس وقت مفرور ہیں  اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں تلاش کر رہے ہیں اور ان کے کسی جگہ سامنے آنے کا بھی انتظار کر رہے ہیں۔  آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی یہ سزا یافتہ ارکان سامنے نہیں آئے۔ 

 پی ٹی آئی کے ذرائع بتا رہے ہیں کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر  عمر ایوب، سنی اتحاد کونسل کا چیئرمین حامد رضا، پارلیمانی پارٹی کی سربراہ اور کئی سرکردہ ارکان کو پولیس ڈھونڈ رہی ہے، وہ پارلیمنٹ اور اڈیالہ جیل دونوں کے قریب بھٹکنے کی جرآت نہیں کر پائیں گے۔

 تحریک انصاف کی جانب سے ہنگامے، احتجاج اور مزاحمت کے بلند بانگ نعروں کے درمیان قومی اسمبلی کا اجلاس آج (پیر) پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہوا تو اس کے دعووں کے برعکس کوئی لیدر احتجاج کرنے کے لئے نہیں آیا۔پی ٹی آئی اپنی دیرینہ روایت کے برعکس آج  قومی اسمبلی کے اجلاس کی پہلے دن کی کارروائی میں کوئی شورشرابہ تک نہیں کروا سکی۔

یہ قومی اسمبلی کا 18 واں اجلاس تھا  جس کے افتتاحی دن کے لیے قومی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل سید طاہر حسین نے 32 نکات پر مشتمل تفصیلی یجنڈا جاری کیا تھا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران احتجاج  تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہونا تھا جو نہیں ہو سکا، اب آج پانچ اگست کو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج بھی اس سیاسی اتحاد کی حمایت سے ہونا ہے لیکن راوپلنڈی کی انتظامیہ نے دفعہ 144 لگا کر پولیس کو نامطلوب ارکان پارلیمنٹ کے بھی اڈیالہ جیل تک آنے کا راستہ بند کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کے لئے اپنے کارکنوں اور وکیلوں کو اڈایلہ جیل جانے کی کوئی ہدایت اب تک جاری نہیں کی، صرف ارکان پارلیمنٹ کو بلایا ہے۔  اڈیالہ جیل کی سکیورٹی کے لئے اس جیل کے دروازوں کی طرف جانے والے راستے پر دونوں اطراف سے چیک پوسٹیں بنی ہوئی ہیں، پولیس اہلکار کسی غیر متعلقہ شخص کو جیل کے دروازوں کے قریب نہیں جانے دیتے، جب پی ٹی آئی کے کسی احتجاج کا دن ہوتا ہے تو یہاں پولیس کے اہلکاروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے جب کہ پی ٹی آئی کے کارکن ہمیشہ قلیل تعداد میں ہی نظر آتے ہیں۔ 

پانچ اگست کے پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ  وہ جیل کی سکیورٹی اور امن عامہ کو یقینی بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرین گے جن میں گرفتاریاں بھی شامل ہوں گی۔