ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیلی معاشرہ کی ممتاز  ادبی شخصیت دیو ڈیوڈ گراسمین نے غزہ کی جنگ کو 'جینوسائیڈ' قرار دے دیا

David Grossman, Genocide, Gaza war, Hamas Israel conflict, Seven October terrorism, City42, Human Rights
کیپشن: مصنف ڈیوڈ گراسمین 21 جنوری 2023 کو تل ابیب میں حکومت کے منصوبہ بند عدالتی اصلاحات کے خلاف احتجاج کے دوران بول رہے ہیں۔ (فوٹو: Avshalom Sassoni/Flash90)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  'ٹوٹے ہوئے دل' کے ساتھ، اسرائیلی معاشرہ کی ممتاز  ادبی شخصیت دیو ڈیوڈ گراسمین نے غزہ کی جنگ کو 'جینوسائیڈ' کا نام دے دیا۔
ایوارڈ یافتہ اسرائیلی مصنف ڈیوڈ گراسمین نے غزہ میں اپنے ملک کی مہم کو "نسل کشی" قرار دیا اور کہا کہ وہ اس اصطلاح کو "ٹوٹے ہوئے دل" کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔

یہ اس وقت سامنے آیا جب ایک بڑے اسرائیلی ہیومن رائٹس گروپ نے بھی غزہ جنگ کیلئے اسی اصطلاح کا استعمال کیا، محصور علاقے میں بھوک کے بڑھتے ہوئے عالمی خطرے کے درمیان پہلی مرتبہ اسرائیلی مواشرہ کے اندر سے اسرائیل حماس جنگ کو جینوسائیڈ قرار دیا جا رہا ہے۔

جینوسائیڈ: "کئی سالوں تک، میں نے اس اصطلاح کو استعمال کرنے سے انکار کیا،'" ممتاز مصنف اور امن کارکن  ڈیوڈ گراسمین نے جمعہ کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں اطالوی روزنامہ لا ریپبلیکا کو بتایا۔

"لیکن اب، میں نے جو تصاویر دیکھی ہیں اور وہاں موجود لوگوں سے بات کرنے کے بعد، میں اسے استعمال کرنے سے گریز نہیں کر سکتا۔"

گراسمین نے اٹالین اخبار کو بتایا کہ وہ اس  لفظ کو  "بے حد درد اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ" استعمال کر رہے ہیں۔

"یہ لفظ ایک برفانی تودہ ہے: ایک بار جب آپ اسے کہتے ہیں، تو یہ برفانی تودے کی طرح بڑا ہو جاتا ہے۔ اور یہ مزید تباہی اور مصائب میں اضافہ کرتا ہے،" وہ کہتے ہیں۔

گراسمین کی تخلیقات، جن کا درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے، بہت سے بین الاقوامی انعامات کی حقدار قرار پا چکی ہیں۔

ڈیوڈ گراسمین نے 2018 میں اسرائیل کا سب سے بڑا ادبی انعام، "اسرائیل کا ادب کا انعام"، تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے کام کے لیے جیتا تھا۔

گراسمین کا کہنا ہے کہ ہولوکاسٹ اور ہماری "انسانیت کے مصائب کے بارے میں سمجھی جانے والی حساسیت" کی وجہ سے "اسرائیل" اور 'قحط' کے الفاظ کو ایک ساتھ رکھنا ان کے لئے "تباہ کن" تھا۔

اسرائیل کے معاشرہ مین عمومی یقین یہ رہا ہے کہ یہودی سینکڑوں سال سے دنیا کے بہت سے علاقوں میں طاقتور گروہوں کے عتاب کا شکار رہے اور صبر کے ساتھ خود  کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہے، پھر انہیں جرمنی میں اور دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی ہٹلر کے قبضہ میں چلے جانے والے ملکوں میں جینوسائیڈ کا شکار ہونا پڑا۔ اس جینوسائیڈ نے دنیا خصوصاً ہٹلر کے مخالف یورپی ملکوں کی رائے عامہ کو جھنجھوڑ ڈالا تھا اور اس نے اسرائیل کی ریاست کے قیام میں  اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسرائیل کے معاشرہ میں اپنے متعلق یہ توقع نہین رکھی جاتی رہی کہ اسرائیلی کبھی خود بھی کسی قوم کا جینوسائیڈ کریں گے۔ غزہ جنگ کے متعلق اسرائیل کا معاشرہ واضح طور پر تقسیم رہا ہے، بہت سے لوگ  کم و بیش ایک سال سے بنجمن نیتن یاہو کی اتحادی حکومت سے سرگرمی کے ساتھ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ غزہ جنگ کو فوراً بند کریں۔ یہ لوگ حماس کے سات اکتوبر کے ظالمانہ حملے کو دہشتگردی تصور کرتے ہیں لیکن اس کے جواب میں نیتن یاہو حکومت کی غزہ میں جنگ کو غیر ضروری تصور کرتے ہیں۔

مشہور مصنف ڈیوڈ گراسمین طویل عرصے سے اسرائیلی حکومت کے ناقد رہے ہیں۔