ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جلال آباد کے زلزلہ سے اموات کیوں ہوئیں، حقائق سامنےآگئے

Jalalabad Earthquake, City42

سٹی42: پڑوسی ملک میں جان لیوا زلزلے کے بعد اوپر تلے 12 مزید زلزلے آ گئے۔ عوام میں خوف پھیلا ہوا ہے اور لوگ مسلسل استغفار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

 افغانستان میں اتوار اور پیر کی درمیانی رات آنے والے جان لیوا  زلزلہ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 800 پہنچ گئی۔ 2500 افراد  کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس زلزلہ سے ننگر ہار کے دارالھکومت جلال آباد اور نزدیک کے علاقوں میںزیادہ نقصان ہوا۔  کئی گاؤں مکمل تباہ ہو گئے۔ ان گاؤں مین تمام تعمریات پتھر اور گارے سے کی گئی تھیں۔  امدادی کارروائیاں ابھی ابتدائی مرحلہ میں ہیں۔ ملبہ ہٹائے جانے کے بعد مرنے والوں اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

افغانستان میں زلزلہ جان لیوا کیوں تھا

اس خوفناک زلزلہ کا زمین میں مرکز صرف 8 کلومیٹر گہرائی میں تھا اور یہ جگہ آبادیوں کے قریب تھی۔ ایسا ہی زلزلہ  2005 8 اکتوبر کو آزاد کشمیر اور مانسہرہ میں آیا تھا جس کا مرکز مظفر آباد شہر کے قریب  12 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ ماہرین بتاتے ہین کہ زلزلہ کے مرکز سے  جھٹکے اوپر زمین کی سطح تک آتے ہیں تو ان کی بیشتر  تباہ کن طاقت راستے میں آنے والی چٹانوں میں جزب ہو جاتی ہے، اگر زلزلے کا مرکز زمین میں کم گہرائی میں ہو تو کم طاقت کا زلزلہ بھی زمین کی باہر والی سطح کو زیادہ بری طرح ہلاتا ہے۔ ایسا ہی گزشتہ رات افغانستان کے علاقہ جلال آباد میں ہوا۔

12 مزید زلزلے

 اس زلزلہ کے بعد سے اب تک 12  مزید زلزلے آ چکے ہیں۔ 20 منٹ بعد 4.5 کی شدت کا دوسرا جھٹکا آیا، اس کے بعد 5.2 کی شدت کا تیسرا جھٹکا آیا۔ زیادہ تر اموات گھروں کے منہدم ہو جانے سے ہوئی ہیں۔

 کسی بڑے زلزلہ کے بعد اس کے مرکز میں واقع ٹیکٹونک پلیٹوں میں کافی دیر تک زمین کی تہوں میں نئی ایدجسٹمنٹ ہوتی رہی ہے اور اس عمل سے مزید زلزلے آتے رہتے ہیں جنہیں ٹیکنیکل زبان میں آفٹر شاکس کہا جاتا ہے۔

 یہ زلزلہ اتوار کی رات مقامی وقت کے مطابق 11:47 بجے آیا۔ زلزلہ کا یہ علاقہ پاکستانی سرحد کے پاس ہے۔ بڑے زلزلہ کے بعد علاقے میں آئے 12 آفٹر شاک میں سے زیادہ تر کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3 تھی۔


ننگرہار محکمہ صحت کے ترجمان اجمل دوائش نے بتایا کہ زیادہ تر اموات جلال آباد اور آس پاس کے علاقوں میں ہوئی ہیں، زخمیوں کی تعداد بھی یہیں سب سے زیادہ ہے۔


امدادی کارروائی ناکافی
مشرقی افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں اتوار کی دیر شب آئے 6.0 کی شدت والے زلزلہ کا خوفناک منظر سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ اس زلزلہ میں ہونے والی اموات میں مزید اضافہ کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ امدادی کارروائی بہت سست اور ناکافی ہے۔

علاج کی سہولتیں پسماندہ

جلال آباد کے زلزلہ میں  2500 سے زائد لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں کئی کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے۔ پورے علاقہ مین علاج کی سہولتیں انتہائی پسماندہ ہیں۔

 زخمیوں کو مقامی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ طالبان حکومت نے امدادی ٹیم بھیجی ہے، لیکن اقوام متحدہ اور دیگر ایجنسیوں نے بھی مدد کی پیشکش کی ہے۔

انٹرنیشنل سیسمک سنٹرز کی رپورٹیں

 جرمن ریسرچ سنٹر فار جیو سائنس (جی ایف زیڈ) کے مطابق زلزلہ کا مرکز جلال آباد شہر سے 27 کلومیٹر مشرق میں تھا۔ اس کی گہرائی صرف 10 کلومیٹر تھی۔ 
امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے بھی زلزلہ کی شدت 6.0 بتائی، جو ریکٹر اسکیل پر درمیانہ زلزلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ لیکن گہرائی صرف 8 سے 10 کلومیٹر  تک ہونے سے اس کا اثر سطح پر زیادہ پڑا۔ ایسے زلزلے زیادہ تباہی مچاتے ہیں، کیونکہ کپکپی براہ راست زمین پر محسوس ہوتی ہے۔
ؤافغانستان میں زلزلے کے جھٹکے پاکستان بھر اور بھارت میں دہلی، نوئیڈا اور گوڑگاؤں  تک میں بھی جھٹکے محسوس کئے گئے

ہندوکش پہاڑ کے نیچے زلزلے کیوں آتے ہیں
افغانستان میں ہندو کُش کا پہاڑی سلسلہ زلزلوں کا عظیم مرکز ہے جہاں تقریباً ہر دوسرے دن زلزلے آتے ہیں۔  ان زلزلوں کے جھٹکے پاکستان تک آتے ہیں۔  ہندوکش پہاڑی سلسلہ پاکستان سے شروع ہوتا ہے اور افغانستان کے اندر تک جاتا ہے۔ اس پہاڑ کے نیچے عظیم  ٹیکٹونک پلیٹوں کا سنگم واقعہ ہے۔ اس سنگم میں روزانہ زلزلہ عام بات ہے۔ یہاں یوریشین پلیٹ، عربین پلیٹ اور انڈین پلیٹ کے ٹکرانے کی وجہ سے زلزلے آتے ہیں۔ یہاں انڈین پلیٹ کا  یوریشین پلیٹ سے ٹکراؤ 39 ملی میٹر/سال کی رفتار سے ہوتا ہے۔

گزشتہ 10 سالوں میں 300 کلومیٹر کے دائرے میں 10 بڑے زلزلے آئے جن کی شدت ریختر سکیل پر  6.0 سے اوپر پائی گئی۔ 2015 کا 7.5 کی شدت والا زلزلہ سب سے زیادہ مہلک تھا۔

سنہ 2023 میں 6.3 کی شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس میں 1500 لوگوں کی اموات ہوئی تھیں۔ یہاں سالانہ 100 سے زائد زلزلے آتے ہیں، لیکن 6.0 سے زیادہ بہت کم آتے ہیں۔