ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

یروشلم کی پہاڑیوں پر لگی آگ مزید پھیل گئی، سات آبادیوں کو خطرہ

Central Israel Bushfire, Jerusalem bushfire, Heatwave , Rescue service, National Emergency in Israel, City42
کیپشن: شدید گرمی اور ہواؤں کی وجہ سے وسطی اسرائیل میں جنگل کی آگ لگنے سے دھواں اٹھ رہا ہے .

سٹی42ـ  یروشلم کے قریب اسرائیل کے جنگلات میں لگی آگ دوسرے روز بھی بھڑک رہی ہے۔ کچھ جگہوں پر فائر فائٹرز کی رات بھر کی کوشش سے آگ کنٹرول ہو گئی تاہم اب بھی  11 ہاٹ  سپاٹس پر آگ بھڑک رہی ہے اور سات کمیونٹیز کو گھر چھوڑنے کے لئے وارننگ بھیجی جا چکی ہے۔  اسرائیل مین آگ پر کنٹرول کرنے میں ناکامی پر حکومت پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔
اسرائیل کی فائر فائٹنگ سروس کا کہنا ہے کہ 163 فائر فائٹنگ ٹیمیں اور 12 طیارے آگ پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وسطی اسرائیل میں شدید گرمی اور ہواؤں کی وجہ سے جنگل میں آگ لگنے سے جگہ جگہ سے  دھواں اٹھ رہا ہے۔ 

Caption  یروشلم شہر سے کچھ فاصلے پر پہاڑیوں میں لگی آگ  کے شلعے ہائی وے پر سے دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری تصویر مین اس علاقہ سے گھر چھوڑ کر محفوظ علاقہ کی طرف جانے والے شہری دکھائی دے رہے ہیں۔

الجزیرہ نیوز نے جمعرات کو بتایا کہ  اسرائیلی فائر فائٹنگ ٹیمیں دوسرے دن سے یروشلم کے قریب جنگل کی آگ پر قابو پا نے کی جدوجہد کر رہی ہیں، پولیس نے کئی بڑی سڑکوں کو دوبارہ کھولنے کی اطلاع دی ہے جو بند کر دی گئی تھیں۔

ٹائمز آف اسرائیل نے بتایا ہے کہ انتظامیہ نے کچھ آبادیوں سے گھر چھوڑ کر محفوظ علاقوں میں آ جانے والے شہریوں کو گھروں کو واپس جانے کی اجازت دے دی ہے تہم فائر فائٹرز انتباہ کر رہے ہیں کہ خطرہ تمام آبادیوں کے لئے برقرار ہے کیونکہ ہوائیں بدستور چل رہی ہیں۔

آگ بدھ کے روز مرکزی یروشلم – تل ابیب ہائی وے کے ساتھ  پہاڑیوں پر بھڑک اٹھی تھی، جس نے پولیس کو سڑکیں بند کرنے اور قریبی علاقوں سے ہزاروں رہائشیوں کو ان کے گھر چھڑوا کر محفوظ علاقوں میں پناہ لینے  پر مجبور کیا۔
اسرائیل کی فائر فائٹنگ سروس  نے بتایا ہے کہ 163 زمینی ٹیمیں اور 12 طیارے آگ پر قابو پانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ریسکیو ایجنسی میگن ڈیوڈ ایڈوم نے کہا کہ اس نے بدھ کے روز 23 افراد کا علاج کیا جن میں سے زیادہ تر دھویں میں سانس لینے اور جھلسن ے کی وجہ ان تک پہنچےتھے۔

اسرائیل کے پبلک براڈکاسٹر کان کے مطابق، آگ  بجھانے کی کوشش میں 17  فائر فائٹرز زخمی ہوئے ہیں۔

میگن ڈیوڈ ایڈوم ریسکیو ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ سیکڑوں شہری برسوں میں بدترین بش فائر سے خطرے میں ہیں۔

ایم ڈی اے نے کہا کہ اس نے  23 افراد کو علاج فراہم کیا، جن میں سے 13 کو ہسپتال لے جایا گیا، جن میں سے زیادہ تر دھویں میں سانس لینے اور جھلسنے میں مبتلا ہیں۔

ان میں دو حاملہ خواتین اور ایک سال سے کم عمر کے دو شیرخوار تھے۔

یروشلم  اور کئی دوسرے علاقوں میں میں الرٹ کی سطح کو بلند ترین درجے تک بڑھا دیا گیا ہے۔

مودین شہر کے قریب سے بات کرتے ہوئے جہاں  ایک قریبی پہاڑی پر آگ بھڑک رہی تھی، 40 سالہ رہائشی یوول اہارونی نے کہا: "یہ بہت افسوسناک ہے کیونکہ ہم موسم کے بارے میں جانتے تھے، ہم ایک طرح سے جانتے تھے کہ ایسا ہو گا اور پھر بھی ہمیں لگتا ہے کہ وہ اتنے زیادہ  طیاروں کے لیے تیار نہیں تھے جو بڑی مقدار میں پانی گرا سکتے۔"

پولیس نے بتایا کہ عملے نے  بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب رات بھر کام کیا،اس مسلسل کوشش  نے یروشلم – تل ابیب کے راستے سمیت اہم سڑکوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی۔

پولیس کے ایک بیان کے مطابق "تمام راستوں کو ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔"

Caption فائر فائٹر ایک ہیلی کاپٹر سے پانی سپرے کر کے آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 


قومی ایمرجنسی 
اسرائیل میں حکومت نے یروشلیم کی آگ پر قابو پانے کے لئے قومی سطح کی ایمرجنسی ڈیکلئیر کر دی ہے۔

 وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے "قومی ایمرجنسی" کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آگ یروشلیم شہر  تک پھیل سکتی ہے۔ شہر مین سینکڑوں قدیم تعمیرات ہیں جن تک آگ کا پہنچنا بہت  بڑا سانحہ ہو سکتا ہے۔

یروشلیم میں پولیس نے بتایا کہ ہیٹ ویوو  Heat Wave کے پیدا کئے  زیادہ ٹمپریچر  اور تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ جنگل والے علاقوں میں تیزی سے پھیلی، جس سے کم از کم پانچ کمیونٹیز سے انخلاء ہوا ہے۔

ٓٹلی اور قبرص سے فائر فائٹنگ طیاروں کی آمد

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، یورپی ممالک اٹلی اور قبرص نے آگ بجھانے کی ہنگامی کوششوں میں مدد کے لیے آٹھ فائر فائٹنگ طیارے اسرائیل روانہ کیے ہیں۔

اسرائیل کی فائر اینڈ ریسکیو سروس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ امداد اس وقت حاصل کی گئی ہے جب یروشلم کے قریب 11 ہاٹ سپاٹس میں آگ بھڑک رہی ہے، سات قصبوں کو اب بھی خالی کرایا جا رہا ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے اہلکار یروشلم اور دیگر وسطی اضلاع میں مدد کر رہے ہیں۔

جمعرات کو ایک فوجی بیان میں کہا گیا کہ "رات کے دوران درجنوں انجینئرنگ گاڑیوں نے آگ کو دوسرے درختوں میں پھیلنے سے روکنے کے لیے حفاظتی لائنیں بنانے کے لیے پورے ملک میں کام کرنا شروع کر دیا۔"

"آئی اے ایف (ایئر فورس) بھی آگ بجھانے کی کوششوں میں مدد جاری رکھے ہوئے ہے،" اس نے کہا۔