اسٹیئرنگ وہیل کے بغیر چلنے والی گاڑی متعارف

 اسٹیئرنگ وہیل کے بغیر چلنے والی گاڑی متعارف
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: چین کی ٹیکنالوجی کمپنی بائیڈو نے اپنی نئی خودکار ڈرائیونگ (اے وی) کی صلاحیت رکھنے والی گاڑی متعارف کرائی ہے جس میں اسٹیئرنگ وہیل ڈی اٹیچ ایبل ہے۔

اس گاڑی کو یہ کمپنی 2023 میں روبوٹ ٹیکسی سروس کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ڈھائی لاکھ چینی یوآن (84 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) کی یہ گاڑی اس کمپنی کی سستی ترین خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑی ہے۔

کمپنی کے مطابق اس نئی گاڑی کو چلانے کے لیے انسانی معاونت کی ضرورت نہیں اور یہ autonomous لیول 4 گاڑی ہے۔اس گاڑی میں 8 لیڈارز اور 12 کیمرے میں نصب ہیں۔ لیڈار ایسا سسٹم ہوتا ہے جو ریڈار کی طرح کام کرتا ہے مگر یہ ریڈیو لہروں کی بجائے لیزر لائٹس کو استعمال کرتا ہے۔

ٹیسلا کی جانب سے بھی بغیراسٹیئرنگ وہیل والی روبوٹ ٹیکسی کی تیاری پر کام کیا جارہا ہے جبکہ ایلفا بیٹ (گوگل کی پیرنٹ کمپنی) کی جانب سے بھی گزشتہ سال بغیر اسٹیئرنگ وہیل والی روبو ٹیکسی پیش کی گئی تھی۔

اس وقت ایلفا بیٹ نے کہا تھا کہ مکمل خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیاں آنے والے برسوں میں امریکا میں متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔مگر دنیا بھر میں کمپنیوں کو اس ٹیکنالوجی سے لیس گاڑیوں کو سڑکوں پر چلانے کے لیے ریگولیٹری منظوری کا انتظار ہے۔

بائیڈو کے مطابق یہ نئی گاڑی بھی اسٹیئرنگ وہیل کے بغیر اس وقت سڑکوں پر چلائی جائے گی جب چینی انتظامیہ کی جانب سے منظوری مل جائے گی، اس وقت تک اسے اسٹیئرنگ وہیل کے ساتھ ہی ایک انسانی ڈرائیور چلائے گا۔خیال رہے کہ اس کمپنی نے اپنی پہلی خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑی 2017 میں متعارف کرائی تھی۔