پاکستان میں کینیڈین پنجابی، ایرانی اور ترکی فلموں کی نمائش کی اجازت

govt allow the exhibition
Cinema and theater

ویب ڈیسک : وزیراطلاعات چودھری فواد  نے اعلان کیا ہے کہ کابینہ نے پاکستان میں کینیڈین پنجابی، ایرانی اور ترکی فلموں کی نمائش کی اجازت دیدی ہے۔

رپورٹ کے مطابق فواد چودھری وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ سینما کے شعبے کی ترقی کیلئے علاقائی ملکوں سے فلموں کی نمائش کی اجازت دے رہے ہیں۔ سینماز میں کینیڈین پنجابی، ایرانی اور ترکش فلمیں دکھانے کی اجازت دے رہے ہیں تاکہ سینما انڈسٹری کی بحالی ممکن ہو۔ اس کے علاوہ سینماز کو مراعات جیسے بجلی اور ٹیکسز پر ریلیف دے رہے ہیں۔ یادرہے 30 سال پہلے پاکستان میں 1700 سینما اسکرینز تھیں اور اب صرف 150 سے کچھ زیادہ ہیں جو کہ  کاروبار نہ ہونے کی وجہ سےروز بروز ختم ہوتی جارہی ہیں۔

پاکستان میں ایک سال میں 15 سے20 فلمیں بنتی ہیں اور ان میں سے بھی تین چار فلمیں عیدالفطر اور عیدالاضحٰی پر نمائش کے لیے پیش کردی جاتی ہیں تو باقی سارا سال  ان اسکرینز پر کچھ نہیں دکھایا جاسکتا۔ ہالی وڈ کی فلموں کی ایک محدود مارکیٹ ہے اور انگریزی فلمیں تو چھوٹے شہروں میں بالکل نہیں چلتیں۔ 2016 ستمبر میں  مقبوضہ کشمیر میں واقع اُڑی کیمپ پر ہونے والے حملے کے دو ہفتے بعد انڈین موشن پکچرز ایسوسی ایشن نے پاکستانی فنکاروں کے انڈیا میں کام کرنے پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد منظور کی تھی جس کے جواب میں پاکستان میں سینما مالکان نے اپنے طور پر انڈین فلموں کی نمائش روک دی تھی۔

اس سے قبل اگست 2016 میں سپریم کورٹ  کے ایک فیصلے کے تحت ممنوعہ اشیاء کی درآمد کا خصوصی اجازت نامہ (این او سی) جاری کرنے کا اختیار وزارتِ تجارت سے لے کر کابینہ کے سپرد کر دیا  تھا۔ اس ضمن میں حکومت نے عدالتِ عظمٰی میں ایک اپیل بھی کی تھی تاہم وہ مسترد کر دی گئی۔ پاکستان میں 1965 سے انڈین فلموں کی درآمد پر پابندی عائد ہے۔ تاہم2007  میں حکومت نے ایک پالیسی بنائی تھی جس کے تحت بھارتی فلموں کی محدود تعداد کو پاکستان میں نمائش کے لیے خصوصی استثنٰی یا این او سی جاری کیا جاتا تھا جس کے بعد وہ فلم پاکستان میں درآمد کی جاتی تھی اور پھر اسے سینسر بورڈ منظور کرتا تھا۔ لیکن اوڑی حملے کےبعد بھارتی فلموں کی نمائش بالکل نہیں ہوسکی۔

پاکستان فلم ایگزیبیٹرز کے مطابق انڈین فلموں پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد سے اب تک پاکستانی سینیما گھروں میں لوگوں کی آمد میں 70 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے ملٹی پلیکسز کو 40 فیصد سکرینز بند کرنا پڑیں جبکہ اسی وجہ سے 1700 افراد کی نوکریاں بھی ختم کردی گئیں۔ اب حکومتی فیصلے کے بعد  امید پیدا ہوئی ہے کہ سنیما گھر ایک بار پھر آباد ہوں گےاور فلم اسٹوڈیوز جو اب شاپنگ مالزاور ہاؤسنگ سوساٖئٹیز میں بدلنے جارہے تھے کی رونقیں دوبارہ بحال ہوجائیں گی۔