ویب ڈیسک: بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ’ دماغی نکسل‘ کی اصطلاح استعمال کئے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ ’ دماغی نکسل پارٹی‘ تیزی سے مقبول ہوگئی۔ محض ایک دن میں لاکھوں فالوورز بنانے والے اس اکاؤنٹ نے سیاسی طنز، اختلافِ رائے اور مودی کے بیان پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔اس اکاؤنٹ نے خود کو ایک آن لائن طنزیہ تحریک کے طور پر پیش کیا، جو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے۔
بھارتی میڈ رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی یومِ آزادی کی تقریر میں ’ دماغی نکسل‘ کی اصطلاح استعمال کئے جانے کے ایک روز بعد ’ دماغی نکسل پارٹی‘ نامی ایک طنزیہ انسٹاگرام اکاؤنٹ سامنے آیا اور راتوں رات تیزی سے مقبول ہوتے ہوئے اس کے فالوورز کی تعداد2لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ پیر کی دوپہر تک اس انسٹاگرام پیج کے فالوورز کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہو چکی تھی، جبکہ اسی سے ملتے جلتے ناموں کے کئی اکاؤنٹس بھی مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سامنے آگئے۔ اس اکاؤنٹ نے خود کو ایک آن لائن طنزیہ تحریک کے طور پر پیش کیا، جو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے۔ اپنی ابتدائی پوسٹس میں سے ایک میں اکاؤنٹ نے رکنیت کے معیار کی فہرست جاری کی، جس میں سب سے اوپر یہ شرط رکھی گئی کہ ’آپ ہماری پارٹی میں صرف اسی صورت شامل ہو سکتے ہیں جب آپ اپنے ہی لیڈروں سے اختلاف کر سکیں۔
????????????
— Dimaagi Naxal Janta Party ???? (@DJPforINDIA) August 16, 2026
Everyone Come And Join Our Party - DJP
Dimaagi naxal janta party- ????
???? Everyone With A Brain Is A Dimaagi Naxal
Our goals and ideals
pic.twitter.com/VEcdS4R6jA
بھارت کے بڑے اردو اخبار کی ویب رپورٹ کے مطابق پیر کے روز یہ پیج کچھ دیر کیلئے ناقابلِ رسائی ہوگیا، جس کے بعد اس کے منتظمین نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ اسے ’سائبر حملوں ‘ کا سامنا ہے۔ بہت سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس اکاؤنٹ کی پوسٹس دوبارہ شیئر کیں اور اسے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں بھی شامل کیا، جبکہ لوگوں سے اپیل کی گئی کہ ’اسے ہٹائے جانے سے پہلے فالو کرلیں۔ یہ بات زیادہ معلوم نہیں کہ اس اکاؤنٹ کو کون چلا رہا ہے۔ انسٹاگرام بائیو میں بانی کے طور پر ’ایک دماغی بھارتی‘ لکھا گیا ہے۔ گروپ کا نعرہ ہے:’ہم سوچتے ہیں۔ہم تحقیق کرتے ہیں۔ہم مزاحمت کرتے ہیں‘۔ گروپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر موجود پوسٹس کے مطابق، یہ بھگت سنگھ کے نظریات کی پیروی کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایک پوسٹ کے کیپشن میں گروپ نے لکھا، ’ہم بھگت سنگھ کے پیروکار ہیں، اگر وہ ہمارے اکاؤنٹس معطل کرنے یا ہمیں غدارِ وطن قرار دینے کی کوشش کریں تو بس اتنا سمجھ لیجئےکہ وہ بھگت سنگھ کی توہین کر رہے ہیں۔ ‘گروپ نے متعدد پوسٹس کے ذریعے مودی کے ’ دماغی نکسل‘ والے تبصرے کا موازنہ جارج آرویل کے ناول 1984‘ میں مقبول کئے گئے ’خیالی جرائم‘ کے تصور سے کیا۔ اکاؤنٹ نے ایک کیپشن میں ’ دماغی نکسل‘ کی تعریف ’ایسا ذہن جو جابرانہ نظاموں کے منظم طریقۂ کار کو شناخت کر سکے‘ کے طور پر پیش کی اور اسے خود’1984‘ سے ماخوذ قرار دیا۔
Cyber Attack Started against @DNJP_India on Instagram.
— Dimagi Naxal Janta Party (@DNJP_India) August 17, 2026
Let’s see if they succeed to curb our voices!
IG Page -https://t.co/DM31tFYilx pic.twitter.com/MAC1Q5iDoM
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مودی کے یومِ آزادی کے خطاب نے ان کے استعمال کردہ ’ دماغی نکسل ازم‘ کے تصور پر سوشل میڈیا میں جاری بحث کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔ لال قلعے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے مسلح ماؤ نواز شورش کو بڑی حد تک کچل دیا ہے اور ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرلیا ہے جو کبھی نکسل تشدد سے متاثر تھے۔ مودی نے دلیل دی کہ خطرہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس نے اپنی شکل بدل لی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ماؤ نواز نظریے سے متاثر افراد طویل عرصے تک بااثر عہدوں پر فائز رہے، جن میں حکومتی کمیٹیوں میں ذمہ داریاں بھی شامل ہیں اور انہوں نے نظام کے اندر رہ کر پالیسی سازی کو متاثر کیا۔ مودی نے مزید کہا برسوں تک ماؤ نواز ذہنیت رکھنے والے لوگ ملک کے اقتدار کے ایوانوں میں اہم مقامات پر قابض رہے۔ حتیٰ کہ حکومتی کمیٹیوں میں مشیر کی حیثیت سے بھی اس ماؤ نواز ذہنیت نے پالیسیوں کو متاثر کیا۔
Today's government is against knowledge, schools, science, and intellectuals.
— Dimagi Naxal Party (DNP) (@AIDNP_Official) August 17, 2026
That why Modi-ji calls intellectuals Person as "Dimagi Naxals."
All Dimagi People MUST Follow/@AIDNP_Official#दिमागी_नक्सल #dimaginaxal #DimagiNaxalParty #DimagiNaxalJantaParty #dimaaginaxal pic.twitter.com/RC6viJOatv
واضح رہے کہ مودی کے اس بیان پر 48گھنٹوں تک تنازع جاری رہا، جس کے دوران کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے کہا ’مجھے دماغی نکسل ہونے پر فخر ہے۔ مرکزی وزیر کرن رجیجو نے وضاحت کی کہ مودی نے اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔ ان کے مطابق یہ اصطلاح ان لوگوں کیلئے استعمال کی گئی ہے جو ماؤ نواز نظریے کی حمایت کرتے ہیں، آئین کو مسترد کرتے ہیں، علیحدگی پسندی کی حمایت کرتے ہیں، آرٹیکل370 کے حق میں ہیں یا شمال مشرقی ریاستوں کو باقی بھارت سے جوڑنے والی ’چکن نیک‘ راہداری کو کاٹنے کی وکالت کرتے ہیں۔ رجیجو نے ایک اور ایکس پوسٹ میں چدمبرم کے بیان کو بھارت کے ایک سابق وزیر داخلہ کی جانب سے انتہائی افسوسناک اور نقصان دہ بیان‘ قرار دیا، اور ان تین نکات کے درست اعداد و شمار بھی پیش کئے جن کے ذریعے انہوں نے پہلے ’ دماغی نکسل‘ کہلانے والوں کی وضاحت کی تھی۔بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی شنکر پرساد نے بھی چدمبرم کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’انتہائی غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا۔ حکمراں جماعت کی کمزوری شاید اس کی اپنی تحقیر آمیز سیاسی لغت ثابت ہوئی ہے؛ وہ الفاظ اور القابات جو کبھی اختلافِ رائے رکھنے والوں کو بدنام کرنے کیلئے استعمال کئے جاتے تھے، اب نئے معنی کے ساتھ اپنائے جا رہے ہیں اور سوشل میڈیا تحریکوں کے ہتھیار بن رہے ہیں۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘، جو اس ڈجیٹل جوابی سیاست کیلئے ایک پلیٹ فارم ثابت ہوئی، اب انسٹاگرام پر2کروڑ60 لاکھ سے زیادہ فالوورز حاصل کر چکی ہے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح سیاسی طنز یا توہین کیلئے استعمال کیا جانے والا لفظ ایک طاقتور آن لائن برانڈ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔