اراضی پر قبضہ،آئی جی پنجاب افسروں سمیت عدالت پیش

اراضی پر قبضہ،آئی جی پنجاب افسروں سمیت عدالت پیش

ملک محمد اشرف :اراضی پر قبضےکامعاملہ ، لاہور ہائیکورٹ میں اندراج مقدمہ کے لیےدائر درخواست پرسماعت،عدالتی حکم پرآئی جی پنجاب انعام غنی سمیت دیگر پولیس افسران عدالت پیش،عدالت نے آئی جی پنجاب سے درخواست گزار بارے کارروائی کےحوالےسے23 نومبرکو رپورٹ طلب کرلی ۔

لاہور ہائیکورٹ کی جج جسٹس عالیہ نیلم نےشہری زاہد غنضفرکی درخواست پر سماعت کی، آئی جی پنجاب انعام غنی،ڈی آئی جی لیگل جواد ڈوگراورڈی پی او گجرات عمر سلامت سمیت دیگرافسرپیش ہوئے، جسٹس عالیہ نیلم نےآئی جی پنجاب سے استفسارکیا کہ پولیس نےموقف سنےاورنوٹس جاری کیےبغیر182 کی کارروائی کس طرح شروع کردی؟؟آئی جی پنجاب نےجواب دیا کہ جسٹس آف پیس نے اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کی جس پردرخواست گزار کےخلاف کارروائی شروع کی گئی،182 کی کارروائی کے لیےقلندرہ بنا کر متعلقہ عدالت کو ارسال کیا گیا۔

جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ درخواست گزار کے خلاف 182 کی کارروائی کے لیے دونوں فریقین کونوٹس جاری کرنے سمیت دیگر قانونی تقاضوں کو مدنظر نہیں رکھاگیا،درخواست گزار کی جانب سےموقف اختیار کیاگیا کہ دوسری پارٹی نے اراضی پر قبضہ کرلیا،تھانہ سرائےعالمگیر کو درخواست دی لیکن مقدمہ درج نہ کیا گیا،اندراج مقدمہ کے لیےجسٹس آف پیس کودرخواست دی جو مسترد کردی گئی،پولیس نےجھوٹی درخواست دینےکےالزام میں قانونی کارروائی شروع کردی ہے،درخواست گزار نےاستدعا کی کہ عدالت دفعہ 182 کی کارروائی کا اقدام کالعدم اور پولیس کو اراضی پر قبضہ کرنےوالی پارٹی کے خلاف اندراج مقدمہ کا حکم دے۔

عدالت نے آئی جی پنجاب کو 23 نومبر کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔