ویب ڈیسک: روس کی جانب سے چھوڑے گئے ایک ڈرون نے یوکرین-پولینڈ سرحد کے قریب ایک ریلوے اسٹیشن کو نشانہ بنایا ہے۔ٹرین میں سوار سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، سویڈن کے سابق وزیر اعظم کارل بلٹ اور یوروپی یونین کے کئی ممالک کے حفاظتی مشیروں کو لے جانیوالی ایک سفارتی ٹرین کو قصداً یاہودین اسٹیشن سے مقررہ وقت سے قبل روانہ کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ اتوار کے روز ایسے وقت میں ہوا جب کچھ ہی دیر قبل برطانیہ و سویڈن کے سابق وزرائے اعظم سمیت کئی سینئر بیرون ملکی افسر وہاں سے ایک ٹرین پر سوار ہو کر گزرے تھے۔یوکرین کے سرکاری ریل آپریٹر کے مطابق برطانیہ کے سابق وزیر اعظم بورس جانسن، سویڈن کے سابق وزیر اعظم کارل بلٹ اور یوروپی یونین کے کئی ممالک کے حفاظتی مشیروں کو لے جا رہی ایک سفارتی ٹرین کو قصداً یاہودین اسٹیشن سے مقررہ وقت سے قبل روانہ کیا گیا تھا۔ یہ بیرون ملکی افسران کیف میں منعقد ایک سیکورٹی اجلاس سے لوٹ رہے تھے۔
ریل آپریٹر کے ذریعہ ٹیلیگرام پر جاری ایک پوسٹ کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ روسی ڈرون کا حقیقی نشانہ ڈپلومیٹک ٹرین ہی تھی، جو اتوار کے روز مقررہ وقت سے پہلے اسٹیشن سے روانہ ہو گئی تھی۔ سویڈن کے سابق وزیر اعظم بلٹ نے ایکس پر یاہودین-دوروہُسک سرحدی چوکی کے پاس واقع یاہودین اسٹیشن پر ہوئے حملہ کی ویڈیو شیئر بھی کی ہے۔ ریل آپریٹر کا کہنا ہے کہ ایک دیگر ٹرین، جس میں سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریس سوار تھے، ڈرون کے حملہ کے وقت یاہودین اسٹیشن پر ہی موجود تھی۔ حالانکہ اس حملہ میں فی الحال کسی بھی ہلاکت کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ریلوے آپریٹر کا کہنا ہے کہ روسی حملوں کے خطرے کو دیکھتے ہوئے ٹرین کے وقت میں تھوڑی تبدیلی کی گئی اور اسے تھوڑا قبل روانہ کیا گیا۔ ریلوے افسران کا ماننا ہے کہ روسی ڈرون کا اصل نشانہ یہی ڈپلومیٹک ٹرین تھی جس میں وی آئی پی لیڈران سوار تھے۔
سویڈن کے سابق وزیر اعظم کارل بلٹ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ڈرون حملہ سے ٹھیک پہلے پیچھے آ رہی دوسری مسافر ٹرین کو خالی کرا لیا گیا تھا، جس سے بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ علاوہ ازیں برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اس حملے کو بے معنی کارروائی قرار دیا۔اس درمیان پولینڈ کے وزیر خارجہ راڈوسلاف سکورسکی کا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے ناٹو خطہ کے اتنے قریب روس کے بڑھتے حملوں کو کشیدگی بڑھانے والا قرار دیا ہے۔