ویب ڈیسک:مہنگا ترین اسمارٹ فون خریدنے اور استعمال شدہ گاڑی لینے کو عام طور پر دو الگ نوعیت کے فیصلے سمجھا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں تقریباً 10 لاکھ روپے کا بجٹ بعض صورتوں میں ان دونوں انتخابوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آیا ہے۔
ایپل کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے آئی فون کے مہنگے ترین ماڈل کی امریکی قیمت 3,199 ڈالر تک بتائی جارہی ہے، جبکہ 2 ٹی بی اسٹوریج والا ورژن بھی خاصا مہنگا ہے۔ ایسے میں پاکستان میں تقریباً 10 لاکھ روپے کا بجٹ رکھنے والا شخص جدید ترین آئی فون خریدنے کے بجائے اسی رقم سے استعمال شدہ گاڑی لینے پر بھی غور کرسکتا ہے۔
پاکستان کی سیکنڈ ہینڈ کار مارکیٹ میں اس بجٹ کے اندر مختلف پرانی گاڑیوں کے آپشنز دستیاب ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بیشتر گاڑیاں پرانے ماڈلز پر مشتمل ہیں، لیکن مناسب حالت میں ہونے کی صورت میں یہ روزمرہ سفر اور گھریلو استعمال کیلئے عملی ثابت ہوسکتی ہیں۔
تقریباً 10 لاکھ روپے میں سوزوکی مہران نسبتاً آسانی سے تلاش کی جاسکتی ہے۔ 2008 سے 2010 تک کے متعدد ماڈلز اس قیمت کے آس پاس دستیاب ہوسکتے ہیں، جبکہ بعض 2015 ماڈلز بھی بجٹ کی بالائی حد کے قریب نظر آتے ہیں۔ مہران کا سب سے بڑا فائدہ اس کے سادہ ڈیزائن، کم خرچ اور پرزوں کی آسان دستیابی کو سمجھا جاتا ہے، جبکہ ملک کے بیشتر علاقوں میں اس کی مرمت کرنے والے مکینک بھی باآسانی مل جاتے ہیں۔ تاہم جدید سہولیات اور آرام کے اعتبار سے یہ ایک بنیادی گاڑی ہے، اس لیے کم خرچ اور آسان دیکھ بھال کو ترجیح دینے والوں کیلئے یہ مناسب انتخاب ہوسکتی ہے۔
ہنڈائی سینٹرو بھی 10 لاکھ روپے کے بجٹ میں قابل غور گاڑی ہے۔ اس کے پرانے ماڈلز تقریباً اسی قیمت کے قریب مل سکتے ہیں، تاہم بہتر حالت یا نسبتاً نئے ماڈلز کی قیمت زیادہ ہوسکتی ہے۔ مہران کے مقابلے میں سینٹرو زیادہ آرام دہ اور فیملی استعمال کیلئے نسبتاً بہتر سمجھی جاتی ہے۔ خریداری سے قبل اس کے انجن، اے سی، سسپنشن، اسٹیئرنگ اور کولنگ سسٹم کا مکمل معائنہ ضروری ہے۔
سوزوکی کلٹس VXRi بھی اس بجٹ میں ایک متوازن آپشن ہوسکتی ہے۔ 2007 سے 2010 تک کے بعض ماڈلز تقریباً 10 لاکھ روپے کے آس پاس مل سکتے ہیں، تاہم اچھی حالت والی گاڑی کیلئے زیادہ رقم درکار ہوسکتی ہے۔ کلٹس میں مناسب اندرونی جگہ، پرزوں کی آسان دستیابی اور روزمرہ استعمال کیلئے ضروری سہولیات موجود ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ فیملی اور روزانہ سفر کیلئے قابل غور انتخاب بن جاتی ہے۔
اگر کسی خریدار کی ترجیح زیادہ آرام اور بہتر ڈرائیونگ تجربہ ہو تو تقریباً 10 لاکھ روپے کے بجٹ میں پرانی ہونڈا سِوک بھی نظر آسکتی ہے۔ 2004 یا 2005 ماڈل اس قیمت کے قریب دستیاب ہوسکتا ہے، لیکن کم قیمت والی سِوک خریدنے میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔ گاڑی لینے سے پہلے انجن، گیئر، اے سی، سسپنشن، کولنگ سسٹم اور سابقہ حادثات کی تاریخ سمیت تمام اہم حصوں کی جانچ کرانا ضروری ہے، کیونکہ کم قیمت پر ملنے والی گاڑی بعد میں بھاری مرمت کے اخراجات کا سبب بن سکتی ہے۔
ہونڈا سٹی بھی 10 لاکھ روپے کے بجٹ میں ایک ممکنہ انتخاب ہے، تاہم اس قیمت پر اچھی حالت والی گاڑی تلاش کرنا نسبتاً مشکل ہوسکتا ہے۔ 2001 کا EXi ماڈل اس بجٹ میں زیادہ حقیقت پسندانہ انتخاب ہوسکتا ہے، جبکہ 2006 یا 2007 کا i-DSI اگر اچھی حالت میں اسی قیمت کے قریب مل جائے تو اسے بہتر ڈیل سمجھا جاسکتا ہے۔ سیڈان گاڑی لینے کے خواہش مند افراد کیلئے ہونڈا سٹی قابل غور آپشن ہے، تاہم خریداری سے قبل گاڑی کی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق 10 لاکھ روپے کا پورا بجٹ گاڑی خریدنے پر خرچ کرنا مناسب نہیں، کیونکہ اس قیمت میں زیادہ تر گاڑیاں کئی سال پرانی ہوں گی اور خریداری کے فوراً بعد ٹائر، بیٹری، اے سی، سسپنشن، انجن آئل، کولنگ سسٹم یا دیگر مرمت پر اخراجات آسکتے ہیں۔
اس لیے بہتر حکمت عملی یہ ہوسکتی ہے کہ گاڑی کی خریداری کیلئے تقریباً 8 سے 9 لاکھ روپے مختص کیے جائیں اور ایک سے 2 لاکھ روپے اضافی اخراجات کیلئے محفوظ رکھے جائیں۔ اس طرح گاڑی خریدنے کے بعد اچانک سامنے آنے والے مرمتی اخراجات مالی دباؤ کا باعث نہیں بنیں گے۔
گاڑی کے انتخاب میں اگر آسان مرمت اور کم خرچ بنیادی ترجیح ہے تو مہران، زیادہ آرام کیلئے سینٹرو، روزمرہ اور فیملی استعمال کیلئے کلٹس جبکہ بہتر ڈرائیونگ اور آرام کیلئے سِوک پر غور کیا جاسکتا ہے۔ سیڈان لینے والوں کیلئے ہونڈا سٹی بھی ایک ممکنہ انتخاب ہے، بشرطیکہ گاڑی اچھی حالت میں ہو۔
آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ 10 لاکھ روپے کے بجٹ میں صرف ماڈل یا ظاہری شکل کو دیکھ کر فیصلہ نہ کیا جائے بلکہ گاڑی کی اصل حالت کو ترجیح دی جائے۔ اچھی حالت میں موجود پرانی گاڑی ایسی بظاہر خوبصورت گاڑی سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے جو خریداری کے بعد بار بار مرمت اور اضافی اخراجات کا تقاضا کرے۔