ہیرو بننے کے شوق نے بھارتی وزیر اعظم کو زیرو بنادیا

ہیرو بننے کے شوق نے بھارتی وزیر اعظم کو زیرو بنادیا

سٹی 42: چین سے شکست کا دھبہ دھونے اور اپوزیشن کے طعنوں سے منہ چھپاتے بھارتی وزیراعظم نے مقبوضہ لداخ کا دورہ کیا۔ تو انہیں الٹا لینے کے دینے پڑ گئے۔ چین کا خوف بھارتی وزیر اعظم کے دل میں ایسا بیٹھا ہے کہ مقبوضہ لداخ کے دورے کے دوران وادی گلوان سے 150 کلومیٹر دور ہی پڑائو ڈالے رہے اور اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہسپتال کے بجائے کانفرنس ہال میں بیڈز لگوا کر جعلی مریضوں کے ساتھ تصاویر بنواتے رہے۔

چین کے خوف کے مارے نریندر ا مودی نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب جانے کی ہمت نہیں کی بلکہ چین سے تقریباً ڈیڑھ سو کلو میٹر دور نیمو بیس میں رہنے میں ہی غنیمٹ جانی۔ مگر اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے مودی جی کالا چشمہ ملٹری جیکٹ اور کیپ پہن کر ایسے تصاویر بنوائیں جیسے جنگ کے دوران کسی مورچے میں بیٹھے ہوئے ہوں۔ فوٹو سیشن کے لئے دہلی سے لداخ آنے والے نریندرا مودی نے اپنے ان فوجیوں کے ساتھ تصاویر نہ بنوائی جنہیںمار مار کر چین نے ادھ موا کردیا تھا۔ بلکہ چند لمحوں میں ایک عارضی ہسپتال تیار کروا یا جس میں طبی آلات کا کوئی نام و نشان تھا نہ کوئی ڈرپ نہ کوئی ای سی جی مشین، نہ آکسیجن سلنڈر نہ، بلڈ پریشر چیک کرنے کا ذریعہ دکھائی دیا۔

اور ہوتا بھی کیسے کیونکہ یہ کوئی ہسپتال تھا ہی نہیں بلکہ کانفرنس ہال تھا جس میں موجود پروجیکٹر اور اسٹیج صاف گواہی دے رہے تھے۔ غور کرنے پر پتہ چلا کہ بھارتی وزیر اعظم نے اپنے جن فوجیوں کی تیمار داری کی وہ تو بالکل ہٹے کٹے تھے او ر ایسے بیٹھے تھے جیسے زندگی میں کبھی خراش تک نہیں لگی نہ ہاتھوں پر پٹائی کے نشان نہ سر پر کوئی پٹی، جسم یا چہرے پر بھی کسی رگڑ کے کوئی آثار نہ تھے۔ہندوستانی عوام کااس پر شدید ردِ عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ نریندرمو دی کے ایڈوانچرنے بالی وڈ فلم، منا بھائی ایم بی بی ایس کی یاد دلا دی۔