نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں کیلئے بیک ڈور بند کر دیا جائیگا: چیف جسٹس پاکستان

نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں کیلئے بیک ڈور بند کر دیا جائیگا: چیف جسٹس پاکستان


(ملک اشرف) پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں اضافی فیسوں کیخلاف ازخود کیس کی سماعت، چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے پی ایم ڈی سی و دیگر فریقین کو آج ہی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن3بجے 13 نومبر 2018  

خبر پڑھیں۔۔۔کونسا ووٹ گنتی میں شامل، کونسا خارج ہوگا؟

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی اضافی فیسوں کیخلاف کیس کی سماعت کی۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے عدالت میں تفصیلی رپورٹ پیش کردی۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کے مطابق ایک سو کالجز کے 23 ہزار طالبعلموں کا ڈیٹا حاصل کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز نے عطیات، اضافی فیسوں مد میں پیسے بٹورے، اضافی فیسوں کی مد میں  745 ملین طالب علموں کو واپس کر دیئے۔

خبر پڑھنا مت بھولیں۔۔عابد باکسر نے شہباز شریف کو بڑ اچیلنج کردیا 
 چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو عطیات وصول کرنے کی اجازت نہیں، مرکزی داخلہ پالیسی کا معیار طے کیا جائے گا، داخلوں کے لیے بندر بانٹ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ قانون سازی کروانا پڑی تو اس سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لیے بیک ڈور بند کر دیا جائے گا۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:شہباز شریف کو ٹھنڈ لگ گئی

خبر لازمی پڑھیں۔۔الیکشن کمیشن نے زائدالمعیاد شناختی کارڈ پر بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت دیدی

چیف جسٹس نےکہاکہ پی ایم ڈی سی جو بھی معیار قائم کرے گا، ہر صورت نافذ کیا جائے گا، کوتاہی کرنیوالے پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو بھاری جرمانے ادا کرنا پڑیں گے۔ چیف جسٹس نے ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹرعثمان کی کارکردگی کی تعریف بھی کی۔