سٹی42: پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نےوزیر اعلی مریم نواز کے خلاف بیان داغ کر نیا پینڈورا باکس کھول دیا۔
کل مریم نواز نے واضح کیا تھا کہ وہ پنجاب کے سیلاب کے دوران دوسرے سوبہ سے پنجاب کے متعلق بیانات کا جواب دینے پر معافی نہیں مانگیں گی اور پنجاب کے خلاف بات کرنے والوں بولنے سے پہلے کو ہزار بار سوچنا پڑے گا۔ آج نثار کھوڑو نے مریم نواز کے بیان میں نہروں کی تعمیر کے متعلق آئی سی سی کے فیصلے کا ذکر کرنے کو سی سی آئی کے فیصلے کی خلاف ورزی اور آئینی فورم کی توہین قرار دے دیا۔
انہوں نے پنجاب میں سیلاب متاثرین کو دی جانے والی "مکمل امداد" کو "قوم کے سامنے" ظاہر کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا۔
"متنازعہ نہروں کا منصوبہ" آئی سی سی نے دفن کر دیا، مریم نے ذکر کر کے آئینی فورم کی توہین کی
پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے آج اپنے بیان میں کہا مریم نواز کا نئی نہروں کی تعمیر کا منصوبہ متنازعہ تھا۔نثار کھوڑو نے کہا، "سی سی آئی کا آئینی فورم "متنازعہ کینال منصوبے" کو مسترد اور دفن کرچکا ہے۔"وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سی سی آئی کے آئینی فورم سے بالاتر نہیں ہیں. مریم نواز کی اکیلے سی سی آئی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں۔ سی سی آئی کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کے جب تک تمام صوبے اتفاق نہیں کرینگے تب تک کوئی کینال منصوبہ نہیں بنے گا . سندھ کو کسی صورت متنازعہ کینال منصوبے قبول نہیں ہیں۔
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے مریم نواز کے ریمارکس کا نوٹس لینے اور پارٹی پالیسی واضع کرنے کا مطالبہ کردیا۔
پیپلز پارٹی کا پنجاب حکومت سے سیلاب متاثرین کو دی جانے والی امداد قوم کے سامنے ظاھر کرنے کا مطالبہ۔
نثار کھوڑو نے مریم نواز کے خلاف نیا محاذ کھولتے ہوئے الزام لگایا کہ مریم نواز "متنازعہ کینالوں" کے متعلق ریمارکس دے کر سی سی آئی کے فیصلے کی خلاف ورزی اور آئینی فورم کی توہین کر رہی ہیں۔
اس کے ساتھ نثار کھوڑو نے یہ بھی کہا،"مریم نواز کو اپنے صوبے کے اندر اپنے دریاؤں پر اپنے پانی سے ڈیم بنانے سے کسی نے نہیں روکا ."
نثار کھوڑو نے اپنے بیان میں کالاباغ ڈیم نہ بننے دینے کے تاریخی تنازعہ کو بھی گھسیٹتے ہوئے کہا، " سندھو دریا پر لنک کینالز اور ڈیم بنانے کی بات کریں گے تو سندھ نے نواز شریف کو کالاباغ ڈیم بنانے نہیں دیا تو مریم نواز کی کیا حیثیت ہے۔"
سندھو صوبہ اور سندھ دریا؛ نثار کھوڑو نے دریا پر ڈیم بنانے کا تنازعہ پھر چھیڑ دیا
نثار کھوڑو نے نیا پیڈورا باکس کھولتے ہوئے کہا، "سندھ صوبہ اپنے سندھو دریا کے پانی پر کسی کو بھی ڈاکہ ڈالنے نہیں دے گا نہ ہی سندھو دریا پر کسی کو ڈیم بنانے دیں گے۔"
نچار کھوڑو نے 1991 کے تاریخی معاہدہ کے تحت سندھ دریا کے پانی کی تقسیم کے ایکٹ کا حوالہ دیئے بغیر کہا ، :آئینی طور پر پانی پر پہلا حق ٹیل والے صوبے سندھ کا ہے اور سندھ کے پانی پر حملہ سندھ اور ملک کی وحدت پر حملہ تصور ہوگا۔"
نثار کھوڑونے کہا، نواز شریف میں سیاسی سمجھ تھی جنہوں نے ماضی میں کالاباغ ڈیم کا اعلان واپس لیا اور مریم نواز میں سیاسی سمجھ نہیں اس لئے وہ آئینی فورمز کی توہین کر رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نے مزید کہا، مسلم لیگ ن کا قائد نواز شریف ہے مریم نواز نہیں اس لئے نواز شریف مریم نواز کے بیانوں کا نوٹس لیں اور اس متعلق پارٹی پالیسی واضع کریں۔
نثار کھوڑو نے دعویٰ کیا، وزیراعلی پنجاب مریم نواز پیپلز پارٹی کی پنجاب میں بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اس لئے وہ پنجاب میں سیلاب متاثرین کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ریلیف دینے کے عمل کی مخالف ہیں۔
نثار کھوڑو نے کہا، پنجاب کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں، ہیپلز پارٹی سمیت ہر سیاسی جماعت کو پنجاب میں سیاسی سرگرمیاں کرنے کا حق حاصل ہے۔
"مکمل امداد و ریلیف فراہم کرنے" کے"کھوکھلے دعوے"؛ نثار کھوڑو کا الزام
نثار کھوڑو نے الزام گلایا، مریم نواز کی پنجاب کے سیلاب متاثرین کو امداد و رلیف پہنچانے کی کارکردگی کے دعوے صرف صرف ٹی وی چینلز تک محدود ہیں۔
نثار کھوڑو نے الزام لگایا کہ پنجاب کے سیلاب متاثرین تاحال امداد و ریلیف کے لئے انتظار کرکے ترس رہے ہیں۔
وزیراعلی پنجاب کی سیلاب متاثرین کو "مکمل امداد و ریلیف فراہم کرنے" کے کھوکھلی دعوائوں کا پول کھل چکا ہے۔
اگر وزیراعلی پنجاب سیلاب متاثرین کو مکمل ریلیف و امداد پہنچا رہی ہیں تو وہ قوم کے سامنے ظاھر کریں۔
نثار کھوڑو کا ایک اور سنگین الزام
پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نے مزید الزام لگایا کہ پنجاب حکومت نے سیلابی پانی کو پھیلانے کے لئے ایک منصوبہ بندی کے ساتھ کٹ لگوا کر غریب کسانوں اور ان کے فصلوں کو ڈبویا اور امیر طبقے کے بنگلوں کو بچایا ہے۔
مریم نواز نے کل کیا کہا تھا
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کل لاہور میں نئی الیکٹرک بسوں کا افتتاح کرنے کے موقع پر جو خطاب کیا اس کی ویڈیو ریکارڈنگ پبلک کے سامنے آ چکی ہے اور سوشل پلیٹ فارمز پر موجود ہے۔
"سیلاب متاثرین کی مکمل امداد"
مریم نواز نے "سیلاب متاثرین کی مکمل امداد" کی کوئی بات نہین کی تھی بلکہ اس کے برعکس انہوں نے بتایا تھا کہ حکومت پنجاب میں ہر سیلاب متاثرہ شہری کے نقصانات کا تعین کرنے کے لئے سروے کر رہی ہے، دس ہزار اہلکار اس وقت بھی سروے میں مصروف ہیں۔ یہ سروے مکمل ہونے پر تمام متاثرین کو نقصانات کے مطابق ازالہ کی رقوم کے چیک دیئے جائیں گے۔
پنجاب کے حق سے آئی سی سی میں دستبردار ہونے پر صبر کیا; مریم نواز کی کل گفتگو کا خلاصہ
مریم نواز نے کل اپنے تہلکہ آرا خطاب میں آئی سی سی میں پنجاب کے پانی کے حصہ سے نئی نہریں بنانے کے منصوبہ کو مسترد کئے جانے کے متعلق جو گفتگو کی، کل شائع ہونے والی خبر کے مطابق وہ یہ تھی:
"مریم نواز نے کہا، جب نہروں کی بات آئی؛ پنجاب کا اپنا پانی تھا جس کے لئے ہم پنجاب کے وسائل سے نہرین نکالنی تھیں، ہمیں سی سی آئی کی میٹنگ میں بلایا، ہمیں یہ نہریں بنانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وہ پانی جو پنجاب کے عوام کا حق تھا، اسے سیاست کی نذر کر دیا گیا۔"
'میں سی سی آئی میں بولی، پنجاب کا پورا مقدمہ لڑا لیکن انکار ہوا تو میں چپ رہی۔"
"مریم نواز نے کہا، وہاں پر (سندھ میں) لوگوں کو گمراہ کر کے سڑکوں پر نکالا گیا کہ پنجاب کے خلاف بات کرو۔ کیا یہ صوبائیت نہیں تھی۔ میں تو صوبائیت پر یقین نہیں کرتی لیکن جواب تو دینا پڑتا ہے۔"

بینظر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا سیلاب زدہ عوام کی مدد کیلئے قابل استعمال نہیں؛ مریم نواز کا مؤقف
مریم نواز نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا سیلاب زدہ عوام کی مدد کیلئے قابل عمل نہ ہونے کے متعلق کل جو گفتگو کی وہ یہ تھی : "مجھے کہا گیا کہ بی آئی ایس پی سے مدد کیوں نہیں لیتے۔ بی آئی ایس پی کا ڈیٹا تو غریب لوگوں کا ڈیٹا ہے، میں نے یہ نہیں لیا۔ مجھے ان لوگوں کے ڈیٹا کی ضرورت تھی جو اب واقعی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کام کے لئے اب بھی ہمارے 10 ہزار کارکن آج بھی فیلڈ میں ہیں، ایک ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر پتہ کر رہے ہیں کہ کس کا کیا نقصان ہوا ہے تاکہ ہم آ کر اس نقصان کو پورا کرنے کے لئے امدادی رقم کے چیک دیں۔"
