قومی اسمبلی: اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد، بجٹ کثرت رائے سے منظور

قومی اسمبلی: اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد، بجٹ کثرت رائے سے منظور

 (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی نے اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کرتے ہوئے آئندہ مالی سال  2020-21 کے بجٹ کی کثرت رائے سے منظوری دیدی، سابق حکومتی اتحادی بی این پی مینگل کا ووٹ بھی اپوزیشن کے کام نہ آیا، حکومت کوبجٹ منظوری میں 160اور اپوزیشن کو 119ووٹ ملے، اپوزیشن پلے کارڈ اٹھا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کرتی رہی۔

 

وفاقی وزیر مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے علامتی واک آؤٹ کردیا، مراد سعید کی تقریر کے خاتمے کے ساتھ اپوزیشن کا واک آؤٹ بھی ختم ہوگیا، وزیر اعظم عمران خان نے ایوان میں بیٹھ کر بجٹ منظور کرایا، حکومتی ارکان انے خوشی کے نعرے لگائے، اپوزیشن اراکین شورشرابہ کرتے رہے۔

 گزشتہ روزقومی اسمبلی کا اجلاس ایک روزہ وقفے کے بعد دوبارہ سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میں فنانس بل پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر اعظم قوم کا باپ بننے کے نعرے ہی نہ لگائیں باپ کا کردار بھی ادا کرکے دکھائیں، پیٹرول کے بعد بجلی اور گیس کا بم بھی گرنے والا ہے اور ضمنی بجٹ بھی آئیں گے، ہم ان کا راستہ ضرور روکیں گے۔

  بلاول بھٹو زرداری اور خواجہ آصف نے غلام سرور خان کی ڈگری کا سوال اٹھایا تو جواب میں غلام سرور خان نے کہا کہ ہم ان کا گند صاف کرنے آئے ہیں، وفاقی وزیر حماد اظہر نے فنانس بل کی منظوری کے دوران کہا کہ ہم نے ٹیکس فری بجٹ پیش کیا، شاید ہی کبھی ایسا بجٹ پیش کیا گیا ہو، ہم تو مافیا کے خلاف الیکشن سے قبل ہی جیت چکے تھے ہم نے دو سیاسی مافیاز کو نکالا اور نوجوانوں کو آگے لائیں۔

فنانس بل کی شق وار منظوری کے عمل میں اپوزیشن کی ترامیم وائس ووٹنگ سے مسترد کی جارہی تھیں کہ شق نمبر نو پر اپوزیشن نے وائس ووٹنگ چیلنج کی جس پر گنتی ہوئی تو حکومت کو 160 جبکہ اپوزیشن کو 119ووٹ ملے اس طرح اپوزیشن کو 41 ووٹوں سے شکست ہوئی تو حکومتی ارکان نے خوشی میں نعرے لگانے شروع کردیئے۔

ووٹنگ کے دوران سابق حکومتی اتحادی بی این پی مینگل کے دوارکان آغا حسن بلوچ اور ہاشم نوتیزئی نے اپوزیشن کو ووٹ دیا، بجٹ منظوری کے ساتھ ہی اسمبلی اجلاس  (آج)صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ خیال رہے کہ حکومت نے  71 کھرب 37 ارب روپے کا آئندہ مالی سال کا بجٹ اسمبلی میں پیش کیا تھا۔