لیور ٹرانسپلانٹ ہسپتال میں پندرہ پندرہ لاکھ پر ڈاکٹروں کی بھرتی، چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا


ملک اشرف: چیف جسٹس پاکستان نے کڈنی لیور انسٹیٹیوٹ میں بھاری تنخواہوں اور مراعات سے متعلق ازخود نوٹس لے لیا، جبکہ چیف جسٹس نے انفارمیشن کمشنر پنجاب کے خالی عہدے پر تقرری کرنے کا بھی حکم دے دیا۔

 یہ بھی پڑھیں:  چیف جسٹس پاکستان نے اتوار کے روز بھی عدالت لگالی ، سائلین کی فریادیں سنیں

 سٹی 42 نیوز ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے شہریوں کی درخواست پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے، پاکستان کڈنی اینڈلیور ٹرانسپلانٹ انسٹیٹیوٹ کے بجٹ، بھرتی ڈاکٹرز اور عملے کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

 عدالت نے پی کے ایل آئی اے میں ڈاکٹر اور دیگر ملازمین کے سروس اسٹرکچر کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب کو آج شام تک چیف جسٹس کی رہائش گاہ پر فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔

پڑھنا مت بھولئے:  ن لیگ نے انتخابی مہم کے حوالے سے نیا لائحہ عمل تیار کرلیا

 چیف جسٹس نے کہا کہ ان کے نوٹس میں آیا ہے کہ لیور ٹرانسپلانٹ ہسپتال میں پندرہ پندرہ لاکھ روپے پر ڈاکٹروں کو بھرتی کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ پی کے آئی ایل کا سربراہ کون ہے۔ چیف سیکرٹری نے بتایا کہ ڈاکٹر سعید اخترسربراہ ہیں، وہ عمرے کی ادائیگی پر گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سنا ہے ڈاکٹر سعید کی اہلیہ بھی وہاں تعینات کی گئی ہیں۔ علاوہ ا زیں عدالت نے چیف انفارمیشن کمشنر پنجاب کی ایک برس سے خالی سیٹ پر عدم تقرری کا نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس نے شہری کی درخواست پرازخود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کو چیف انفارمیشن کمشن کی میرٹ پر تقرری کی ہدایت کر دی۔

یہ خبر بھی لازمی پڑھیں:  تحریک انصاف کے مقابلہ میں جماعت اسلامی کا بھی مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کا فیصلہ