لاہوریوں کیلئے مہنگائی کا ایک اور طوفان

Inflation
Inflation

فیروز پور روڈ (جنید ریاض، راؤ دلشاد، عمر ڈار) لاہوریوں کیلئے مہنگائی کا ایک اور طوفان، 20 کلو آٹے کا تھیلا 20 روپے اضافے کیساتھ 1120 روپے، چینی 5 روپے اضافہ کے ساتھ 110 روپے کلو جبکہ 8 دالوں کی قیمتوں میں 10 سے 50 روپے تک کا اضافہ کردیا گیا۔

مہنگائی نے غریب آدمی کیلئے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل کردیا، ذرائع کے مطابق چنے کی دال 20 اور دال ماش 50 روپے مہنگی ہو ئی، کالا چنا، سفید چنا، دال مسور اور بیسن کے نرخ بھی بڑھ گئے، چنے کی دال 20 روپے اضافے سے 132 ، دال مسور 25 روپے بڑھ کر 190 روپے کلو تک پہنچ گئی، دال ماش کی قیمت میں پورے 50 روپے اضافہ ہوا، نئی قیمت 280 روپے کلو ہو گئی، کالے چنے 12 روپے اضافہ کے ساتھ 132 اور سفید چنے 15 روپے بڑھ کر 145 روپے کلو ہو گئے،  بیسن 130 روپے سے بڑھا کر 140 روپے کلو تک پہنچا دیا گیا۔

دوسری جانب سرکاری گندم کی ریلیز نہ ہونے سے آٹے کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوگیا گندم کی پیداوار میں ریکارڈ اضافے کے باوجود 20 کلو کے تھیلے کی قیمت میں 20 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔

پنجاب حکومت کے پاس گندم کا وافر اسٹاک تو موجود ہے لیکن گندم ریلیز نہ ہونے سے شہر میں فی کلو آٹا 56 روپے میں فروخت ہونے لگا، گندم کا سرکاری ریٹ فی من ایک ہزار 875 روپے ہے جبکہ اوپن مارکیٹ اور غلہ منڈی میں گندم 2 ہزار 25 روپے فی من سے تجاوز کرنے لگی، شہرکی بعض مارکیٹس میں گندم 2 ہزار 25 روپے سے 2 ہزار 125 روپے تک فروخت ہورہی ہے، محکمہ خوراک اوپن مارکیٹ میں سرکاری ریٹ پر گندم کی فروخت کرانے میں بری طرح ناکام ہوگیا۔

کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر عارف گجر کا کہنا ہےکہ ڈالر کی قیمت بڑھنے اور حکومتی نااہلی کی وجہ سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ، آٹا، چینی اور دالیں ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے۔ 

صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت تین سالوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوچکی ہے.