عدلیہ کو انتخابات سے قبل سیاسی مقدمات کوروک دینا چاہیے:احسن اقبال


 علی اکبر: وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ میرے اقامہ میں معاوضے کی کوئی بات نہیں مدینہ منورہ کے ایڈوائزی بورڈ میں شامل تھا، پی ٹی آئی عدلیہ سے وہ کام لینا چاہتی ہے جو وہ خود نہیں کر سکتی، دردمندی سے استدعا ہے کہ عدلیہ کو انتخابات سے قبل سیاسی مقدمات کوروک دینا چاہیے۔

ماڈل ٹائون میں میڈیا  سے  گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے ووٹ کی عزت کیلئے جو جدوجہد شروع کی ہے یہ وہ راستہ ہے، جو ملک کی خوشحالی اوراستحکام کا راستہ ہے۔ ملک میں آنکھ مچولی کا کھیل کھیلاجارہاہے جو کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس پاکستان نے ریلوے خسارے کا آڈٹ اور رپورٹ پیش کرنے کیلئے ڈیڈ لائن دیدی

 انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے دہشت گردی کے جن کوقابو کیاہے۔ لوڈ شیڈنگ کے بحران پر قابو پایا، مثبت پالیسیوں سے معیشت میں تیزی آئی ہے۔ جس سے گروتھ تین سے پانچ اعشاریہ تک جا پہنچی ہے۔

پڑھنا مت بھولئے: چیف جسٹس پاکستان کا دُکھی انسانیت کے مسائل کے حل کیلئے کوششیں جاری رکھنے کا عزم

انکا مزید کہنا تھا کہ ہماری پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے، سی پیک انفراسٹرکچر کے منصوبے مکمل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے این اے 120، میں (ن) لیگ کو جتوایا، چکوال اور لودھراں میں عوام نے کامیابی دی جو اس بات کی علامت ہے کہ عوام اشارے پر نہیں ترقی اور مشاہدے پر ووٹ دیتے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں:  پی ٹی آئی کارکنان آج مینار پاکستان پر چاند رات منائیں گے

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ٹی آئی کو عدالت میں جانے کی دعوت دیتا ہوں، میرے اقامہ میں معاوضے کی کوئی بات نہیں مدینہ کے ایڈوائزی بورڈ کا ممبر رہا۔ قوم دیکھ رہی ہے وہ سیاسی مقاصد جو پی ٹی آئی بیلٹ کے ذریعے حاصل نہ کر سکی، عدلیہ کے ذریعے حاصل کرنا چاہتی ہے۔

اسے بھی پڑھیں:  چیف جسٹس پاکستان کا سروسز اور مینٹل ہسپتال کا دورہ، گڈگورننس کے دعوؤں کا پول کھل گیا

انہوں نے کہا کہ دردمندی سے اپیل ہے کہ عدلیہ کو انتخابات سے پہلے سیاسی مقدمات کو روک دینا چاہیے، کیونکہ جو فیصلے ملک کی بڑی جماعت کے خلاف آ رہے ہیں عدلیہ فریق بن رہی ہے۔ احترام سے کہوں گا کہ انتخابات سے قبل جو فیصلے آ رہے ہیں کیا عدلیہ کو متنازعہ ہونا چاہیے اس سے قومی نقصان ہوگا۔

ضرور پڑھیں: تحریک انصاف کا کل مینار پاکستان پر جلسہ، کپتان کی تقریر کےنکات سامنے آگئے

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کسی کو عدالت کا کندھا استعمال کرکے سیاست اور انتخابات میں اپنا مقصد پورا نہیں کرنا چاہیے۔ سیاسی تنازعات میں کیا عدلیہ اس کا حصہ رہے گی اس لئے دردمندی سے التجا ہے۔ سپریم کورٹ کو سیاسی کیسز کے فیصلے بعد میں کرنے چاہئیں لیکن اگر وہ کرنا چاہیں تو یہ بھی ان کی صوابدید ہے۔

اسے بھی پڑھیں:  ڈرائیورز ہوجائیں ہوشیار خبردار!! کہیں ایسا نہ ہو کہ عدالت کے چکر کاٹنے پڑ جائیں

احسن اقبال نے کہا کہ ملک کی دشمن قوتیں علاقائی، لسانی، نسلی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کیلئے کروڑوں روپے خرچ کررہی ہیں۔ جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر علاقائی شناخت دی گئی ، جنوبی پنجاب میں علاقائی فرنٹ کھڑا کر دیا گیا، ہمیں بڑی ہوش اور دانشمندی سے اتحاد کی ضرورت ہے۔  انہوں نے کہا کہ انتخابات وقت پر ہوں گی اوراگر کسی نے رکاوٹ ڈالی تو یہ پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ ہوگا۔