چیف جسٹس پاکستان کا سروسز اور مینٹل ہسپتال کا دورہ، گڈگورننس کے دعوؤں کا پول کھل گیا


(سٹی 42) چیف جسٹس آف پاکستان  جسٹس میاں ثاقب نثار نے صبح سویرے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اور سروسز ہسپتال کا دورہ کیا اور مریضوں کی شکایات پر ایم ایس کی سرزنش کی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت سے قبل پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل اور سروسز ہسپتال کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے مریضوں سے مسائل دریافت جس پر مریض پھٹ پڑے اور شکایات کے انبار لگا دیئے، چیف جسٹس نے ایم ایس کو حکم دیا کہ مریضوں کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے۔

یہ خبر پڑھیں۔۔۔چیف جسٹس پاکستان کا دُکھی انسانیت کے مسائل کے حل کیلئے کوششیں جاری رکھنے کا عزم

چیف جسٹس نے ہسپتال انتظامیہ کو کہا کہ مجھے کچن بھی دکھائیں، دیکھتا ہوں کہ کیا انتظامات ہیں؟  چیف جسٹس نے ایم ایس سے  کہا کہ پریشان نہ ہوں، جو کارکردگی ہے ابھی سامنے آجائے گی، چیف جسٹس نے کہا کہ آج سے کوئی  پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کو پاگل خانہ نہیں کہے گا۔

پی ٹی آئی ٹائیگر زخبر پڑھنا مت بھولیں۔۔تحریک انصاف کا کل مینار پاکستان پر جلسہ، کپتان کی تقریر کےنکات سامنے آگئے

چیف جسٹس آف پاکستان نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ لاہور میں بھارتی خاتون کی موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بھارتی خاتون یہاں کیا کررہی ہے اسے واپس بھارت واپس بھجوایا جائے۔

خبر ضرور پڑھیں۔۔۔ڈرائیورز ہوجائیں ہوشیار خبردار!! کہیں ایسا نہ ہو کہ عدالت کے چکر کاٹنے پڑ جائیں

دوسری جانب سروسز ہسپتال کے ڈیلی اور ورک چارج ملازمین چیف جسٹس کے سامنے رو پڑے، انہوں نے چیف جسٹس کو بتایا کہ وہ 10، 10 سال سے یہاں کام کررہےہیں لیکن اس کے باوجود انہیں ریگولر نہیں کیا جارہا ہے۔