چیف جسٹس پاکستان کا دُکھی انسانیت کے مسائل کے حل کیلئے کوششیں جاری رکھنے کا عزم


(ملک اشرف) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی کا معیار انتہائی مایوس کن ہے۔ جب حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گی تو عدالت کو مجبوراً کردار ادا کرنا پڑے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ بار لاہور رجسٹری میں چیف آف جسٹس پاکستان  جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ بار کا دورہ کیا اور وکلاء سے خطاب کیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ برائے ذہنی صحت میں مریضوں کو انتہائی برے حالات کا سامنا ہے، ان کے آنے کی اطلاع ہونے کے باوجود وہاں کی انتظامیہ صفائی اور دوسری سہولیات کے معیار کو بہتر نہیں بنا سکی۔

خبر پڑھنا مت پڑھیں۔۔ڈرائیورز ہوجائیں ہوشیار خبردار!! کہیں ایسا نہ ہو کہ عدالت کے چکر کاٹنے پڑ جائیں

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا  کہ عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے نظام عدل میں موثر اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے سینئر وکلاء پر زور دیا کہ لاء ریفارمز کے لیے تجاویز دیں۔

خبر  بھولیں۔۔تحریک انصاف نے مینار پاکستان جلسے کیلئے نیا پنجابی گانا ریلیز کر دیا

ممبر پاکستان بار حفیظ الرحمان چودھری، احسن بھون، سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار شفقت محمود چوہان سمیت سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چیف جسٹس پاکستان کے تمام اقدامات اور فیصلوں کی تائید کرتی ہے اور ہر قدم پر ان کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔ بار روم میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی تصویر کی رونمائی بھی کی گئی۔ وکلاء نے چیف جسٹس کے حق میں نعرے لگائے۔

یہ خبر پڑھیں۔۔چیف جسٹس پاکستان کا سروسز اور مینٹل ہسپتال کا دورہ، گڈگورننس کے دعوؤں کا پول کھل گیا

 چیف جسٹس نے اس پختہ عزم اظہار کیا کہ وہ دُعا گو ہیں کہ ان کی ہمت قائم رہے اور وہ دُکھی انسانیت کے مسائل کے حل کیلئے  کوششیں جاری رکھیں۔