پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سےمتعلق حکومت کا اہم فیصلہ

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سےمتعلق حکومت کا اہم فیصلہ
کیپشن: miftah ismail
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہےکہ عمران خان اور شوکت ترین معیشت کی بارودی سرنگ بچھا کر گئے اور آئی ایم ایف سے وعدہ کرکے گئے لیکن آئی ایم ایف سے کہوں گا اس وقت ہم تیل کی قیمت بڑھانے کے متحمل  نہیں ہوسکتے۔

کراچی ائیرپورٹ پر میڈیا سےگفتگو  کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا تھا کہ سبسڈی نہیں دیں گے بلکہ 30 روپے فی  لیٹر ٹیکس لگائیں گے، عمران خان اور شوکت ترین نے جو عدہ کیا ہے اس  حساب سے ایندھن پر سبسڈی ختم کرکے پھر 30 روپے فی لیٹر ٹیکس لگانا ہے، عمران اور شوکت ترین کے فارمولے سے ڈیڑھ سو  روپے ڈیزل کی قیمت بڑھانی پڑے گی، ان لوگوں نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا تھا جس کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں، یہ ایک لکھا ہوا معاہدہ ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ قوم اس چیز کی متحمل نہیں ہوسکتی، اس لیے آئی ایم ایف سے کہوں گا کہ مانتا ہوں شوکت ترین نے معاہدہ  کیا مگر اس وقت یہ قوم تیل کی قیمت بڑھنے کی متحمل نہیں ہوسکتی لہٰذا ہمیں وقت دیا جائے ہم فوری یہ نہیں کرسکتے، ہم نے ایک ڈیڑھ مہینے کھینچا ہے اب اس سبسڈی کو مزید لے کر چلیں گے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ شوکت ترین بول رہے تھے کہ انہوں نے سبسڈی کے لیے فنڈ چھوڑے ہیں تو اس پر ہنسی آتی  ہے، مجھے بتائیں وہ کہاں پیسے چھوڑ کر گئے، قرآن پر ہاتھ رکھ حلفیہ کہتا ہوں کہ وزیر خزانہ بننے سے دو  روز قبل سیکرٹری  خزانہ سے ملا، انہوں نے جو پریزنٹیشن دکھائی اس حساب سے 1300 ارب کا بنیادی خسارہ ہے اور 56 ارب کا وفاقی حکومت کا خسارہ  ہے، اب بتائیں کہاں پیسے چھوڑ کر گئے تھے، انہوں نے کوئی پیسہ نہیں چھوڑا،آپ یہ کہیں معاہدے کی خلاف ورزی کرکے گئے۔

انہوں  نے مزید کہا کہ گزشتہ حکومت نے 6 فیصد گروتھ دکھائی، اب آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ آپ کی معیشت تیز چل رہی ہے، معیشت سلو کرو، ہوسکتا  ہے اب ہمیں شرح سود بھی بڑھانا پڑے، ان لوگوں نے ہر جگہ پر بارودی سرنگ بچھائی، گزشتہ حکومت  نے 20 ہزار ارب کا قرض لیا، جتنا 71 سالوں میں قرض لیا گیا اس کا 80 فیصد عمران خان نے لیا۔