توہین عدالت : 27 افسروں سے جواب طلب

توہین عدالت : 27 افسروں سے جواب طلب

ملک محمد اشرف : بیوروکریسی کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں میں کمی نہ آسکی،چیف سیکرٹری ،آئی جی سمیت 27 افسران کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی ،متعلقہ افسران سےجواب طلبی کرلی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ کی9 مختلف عدالتوں میں بیوروکریسی کےخلاف توہین عدالت کی درخواستوں پرسماعت ہوئی،درخواست گزاروں کی جانب سےموقف اختیار کیا گیا کہ عدالتی احکامات پرافسران نےعمل درآمد نہیں کیا،استدعا ہےکہ حکم عدولی پران افسران کےخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔

سائلین اور وکلاء کا کہنا ہےکہ بیوروکریٹس نے عدالتوں میں غیرمشروط معافیاں اورپھرعدالتی نافرمانیاں کرنا معمول بنالیا،عدالتی فیصلوں پر بروقت عمل درآمد نہ ہونے سےانہیں پریشانی کاسامنا ہے، لاہور ہائیکورٹ بار نےعدالتی احکامات پر بروقت عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کو سزائیں دینےکا مطالبہ کردیا۔

یاد رہے لاہور ہائیکورٹ میں آئی جی پنجاب انعام غنی کےخلاف توہین عدالت کی درخواستوں کی تعداد چار ہوگئی، جسٹس عائشہ اے ملک نےشیخوپورہ کےسید وہاب حسین کی درخواست پرسماعت کی،درخواست گزار کی جانب سےموقف اختیار کیاگیا کہ اس کے والد محبوب حسین محکمہ پولیس میں ملازم تھے، دوران سروس انتقال کرگئے، فیملی کلیم کے تحت اسسٹنٹ سب انسپکٹر بھرتی ہونےکے درخواست دی مگر شنوائی نہ ہوئی،عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئےآئی جی پولیس کوقانون کے مطابق فیصلے کا حکم دیا،عدالت کے30اپریل 2020 کے حکم پرعمل نہیں کیا جارہا،درخواستگزار وکیل نےاستدعا کی کہ حکم عدولی پرآئی جی پنجاب انعام غنی کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔