تاجروں کی حکومت کو 31 جولائی کی  ڈیڈلائن

تاجروں کی حکومت کو 31 جولائی کی  ڈیڈلائن

 (مانیٹرنگ ڈیسک ) ملک بھر کے تاجروں نے کاروبار کی بندش اور مطالبات کے حل کے لیے حکومت کو 31جولائی کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔

 

اسلام آباد میں آل پاکستان انجمن تاجران کی جانب سے ہارن بجاؤ حکمران جگاؤ احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ تاجروں نے مطالبات کے حق میں زیر وپوائنٹ اسلام آباد سے وزیراعظم ہاؤس تک مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا، دیگر شہروں سے آنے والے تاجر زیرو پوائنٹ پہنچے تو پولیس نے انہیں اسلام آباد میں داخل ہونے سے روک دیا، تاہم مذاکرات کے بعد مظاہرین کو پیدل جلوس کے بجائے سرینا چوک تک صرف گاڑیوں میں جانے کی اجازت دے دی گئی۔

 

ریلی میں مظاہرین باجے اور گاڑی کے ہارن بجاکر احتجاج  کرتے رہے، ان کا مطالبہ تھا کہ ملک بھر کے ریسٹورنٹس، اسکولز، ہوٹلز اور شادی ہالز کو فوری طور پر کھولنے دیا جائے اور تمام کاروبار رات 10 بجے تک کھولنے کی بھی اجازت دی جائے۔

صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ہمارا راستہ روکا گیا اور بلوچستان اور سندھ کے مظاہرین کو اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیاگیا، اگر عمران خان پارلیمنٹ کے سامنے جا سکتے ہیں تو تاجروں کو کیوں روکا گیا؟انہوں نے مطالبہ کیاکہ ہوٹل، اسکول، پارلرز، شادی ہال سب کو کھولنے کی اجازت دی جائے، لاک ڈاؤن کی چھٹی ختم اور رات 10 بجے تک دکانوں کو کھولنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

اجمل بلوچ  کا کہنا تھا کہ بس میں 50 آدمی سفر کر سکتے ہیں تو شادی ہال میں 100 لوگ کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ تاجروں کو بلا سود قرضے دیے جائیں تاکہ انہیں ریلیف ملے۔صدر آل پاکستان انجمن تاجران نے کہا کہ  31جولائی تک  ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو حکمران بھگاؤ تحریک شروع کی جائے گی۔

تاجروں نے مطالبات کے حق میں زیر وپوائنٹ اسلام آباد سے وزیراعظم ہاؤس تک مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔