پنجاب اسمبلی، ادویات کی قیمتیں کم کرنے کی قرارداد مسترد

پنجاب اسمبلی، ادویات کی قیمتیں کم کرنے کی قرارداد مسترد
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

مال روڈ (علی اکبر) پنجاب اسمبلی نے اکثریت رائے سے ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لینے کی قراداد کو مسترد کر دیا۔

 اجلاس کے دوران نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے مسلم لیگ( ن) کے خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی جانب سے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا گیا ہے کہ تھانہ شاہدرہ میں لیگی قائدین کے خلاف درج ہونے والے مقدمہ کی درخواست ڈی آئی جی کو موصول ہوئی۔ جس پر مجھے بتایا گیا اور میں نے آئی جی پنجاب کو آگاہ کیا تاہم آئی جی پنجاب کی جانب سے وزیر اعظم کی اجازت سے مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 خلیل طاہر سندھو کے نقطہ اعتراض پروزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ ایک دفعہ دوبارہ بیان دینے والے شخص سے تصدیق کر لی جائے کہ انہوں نے ایسا کوئی بیان دیا ہے، مقدمہ کے حوالے سے انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جس نے تقریر کرنے والے کے علاوہ تمام نامزد افراد کو بے گناہ کر دیا۔ 

دوران اجلاس پیپلز پارٹی کے سید حسن مرتضی نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسہ کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے اور انہیں گوجرانوالا کے تھانہ میں رکھا گیا، جس کے خلاف پولیس اہلکاروں پرمقدمہ درج کیاجائے۔

  پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران مسلم لیگ( ن) کے چودھری افتخار چھچھر کی چوبرجی گارڈن اسٹیٹ کالونی ملتان روڈ سے ایل او ایس نالہ تک یوٹرن بنانے کی قرارداد کو منظور کر لیا گیا۔ 

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاکہ حکومت 32 ارب سالانہ کی مفت ادویات مستحق مریضوں کو فراہم کر رہی ہے، قیمتوں کا اضافہ کا معاملہ پنجاب کا نہیں بلکہ وفاق کا ہے۔صحت جیسے اہم ترین معاملہ پر ارکان اسمبلی کی عدم دلچسپی، پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں و قفہ سوالات کے دوران محکمہ صحت سے متعلق 34 سوالوں میں سے 33 کے محرک غیر حاضر رہے۔ 

اجلاس میں مولانا عادل خان کے درجات کی بلندی کی دعا بھی کی گئی جبکہ ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں (ن) لیگ سے نکالے جانے والے رکن اسمبلی نشاط ڈاہا نے لیگی ارکان کو وارننگ دیتے ہوئے کہاہے کہ اگرانہوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو ہنگامہ بڑھ بھی سکتا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فی الحال ابھی ہم کوئی فاروڈ بلاک نہیں بنا رہے لیکن( ن) لیگی جو ہنگامہ کر رہے ہیں یہ بڑھ بھی سکتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ میں اب بھی مسلم لیگ( ن) میں ہوں، استعفیٰ دوں گا نہ ایم پی اے شپ سے مستعفی ہوں گا۔ ایوان میں ن لیگ کی نشستوں پر بیٹھیں گے۔

 نشاط ڈاہا کا کہنا تھا کہ لیگی ارکان نے مولوی غیاث الدین اور جلیل شرقپوری کے ساتھ جو رویہ رکھا ہے اسکی مذمت کرتے ہیں۔