غریب عوام کیلئے ایک اور جھٹکا ، رمضان بازاروں کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا


(رائو دلشاد) مہنگائی میں پسی عوام کیلئے ایک اور بڑا  جھٹکا، رمضان بازاروں کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا، پنجاب حکومت نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کو 41 کروڑ کی گرانٹ وزیراعلی پنجاب کی اجازت سےمشروط کر دی۔

 یہ خبر پڑھیں۔۔چیف جسٹس پاکستان کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس دو ہفتوں میں نمٹانے کا حکم

سٹی 42 کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن کے زیرانتظام31 رمضان بازاروں کو آپریشنل کرنے کے لیے41 کروڑ کی سپلیمنٹری گرانٹ کا معاملہ حل نہ ہوسکا، چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی کی میٹنگ میں سپلیمنٹری گرانٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کی اجازت سے مشروط کردی گئی۔

خبر ضرور پڑھیں۔۔پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کرپشن کیس میں اہم پیشرفت، سابق چیف فنانشل آفیسر گرفتار
دوسری جانب رمضان کی آمد میں ایک ماہ باقی ہےجبکہ پیسے نہ ملنے سے میٹروپولیٹن کارپوریشن محکمانہ تیاری کرنے کے لئے صرف میٹنگز اور کاغذی کارروائیاں کر کے کمیٹیاں بنا رہی ہے، رمضان بازاروں کے لیے کم ازکم ایک ماہ درکار ہوتا ہے، دس ماڈل بازار، بارہ مارکیٹس اور نوعام بازار لگائے جانے ہیں، رمضان بازاروں کے لیے پرچیز، ہائرنگ اور ریپئر کے لئے پنجاب حکومت کو سمری ارسال کی گئی ہے جن میں بازار کا تخمینہ ایک کروڑ بیس لاکھ روپے رکھا گیا ہے۔

خبر پڑھنا مت بھولیں۔۔۔اربوں کا بجٹ کھانے والی پولیس جرائم پر قابو پانے میں ناکام
 ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے ذمے چینی، آٹا، سبزی و پھل سمیت مارکیٹ کمیٹی کے سبسڈائز سٹالز دینا ہے، مئیر لاہور کا کردار رمضان بازاروں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے، 41 کروڑ روپے کی خطیر رقم ملنے کے بعد ہی رمضان بازاروں کو فعال کرنے کے لیے سٹیک ہولڈرز کو متحرک کیا جائے گا۔