پولیس یونیفارم کی خریداری درد سر بن گئی

پولیس یونیفارم کی خریداری درد سر بن گئی

(علی ساہی) پنجاب حکومت کی آئے روزآئی جیزکی تبدیلی پولیس یونیفارم خریداری میں رکاوٹ بن گئی،رواں مالی سال میں فورس کے لیے یونیفارم نہیں خریدا جائےگا،45 کروڑ روپےسےزائدکےفنڈزسرنڈرہوگئے۔

پنجاب پولیس کےلیےہرسال تمام یونٹس کی وردی اور اس سےملحقہ دیگر اشیاکے لیےکروڑوں روپے کے فنڈزمختص کیے جاتے ہیں،جس میں سب سے بڑی خریداری پولیس کی وردی کی ہوتی ہے،لیکن رواں مالی سال متعددآئی جیزکی تبدیلیوں کی وجہ سے پولیس کے لئےیونیفارم نہ خریدےجاسکے گے،یونیفارم کی مدمیں45کروڑروپےسےزائدکےفنڈزسرنڈرہوگئےہیں۔

سابق آئی جی امجدجاویدسلیمی نےاولیوگرین یونیفارم تبدیل کرنیکاحکم دیاتھا،جس کےبعد متعلقہ برانچ نےانتہائی سست روی سے کام کیا اورکسی کنٹریکٹ تک پہنچنےسے پہلے امجد جاویدسلیمی تبدیل ہوگئے،ان کے بعدنئےآئی جی پنجاب نےدوبارہ اولیوگرین یونیفارم بحال کرنےکا حکم دے دیا،جس کی خریداری کے اقدامات کرنے کے لیے وقت کم تھا،اب یونیفارم اگلے مالی سال ہی خریداجائے گا۔

متعلقہ برانچ کے حکام کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال میں گزشتہ سال تیارکرایاگیایونیفارم تقسیم کیاجائےگاجبکہ اگلے سال اہلکاروں وافسران کونیایونیفارم دینے کے بارے میں اعلیٰ افسران ہی بتاسکتےہیں۔