صارف عدالت پر مقدمات کا بوجھ، وکلاء نے حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا

صارف عدالت پر مقدمات کا بوجھ، وکلاء نے حکومت سے بڑا مطالبہ کردیا

(شاہین عتیق) صارف عدالت میں کیس دائر کرنے کی شرح میں ریکارڈ اضافہ، عدالت کا ریکارڈ روم بھر گیا، عدالتی عملہ فائلوں کو الماریوں کے اوپر اور فرش پر رکھنے پر مجبور، وکلاء نے کیسوں کی تعداد زیادہ ہونے پر حکومت سے ججز کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کردیا۔

2005 میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہیٰ نے صارفین کی شکایت کے ازالے کیلئے کنزیومر کورٹ بنائی، 2006 میں لاہور میں صارف عدالت قائم کر کے سیشن جج کو تعینات کیا گیا، صارف عدالت میں 2006 سے اب تک ایک ہی جج سماعت کر رہا ہے جبکہ ایک دن میں پانچ سے سات کیس دائر ہو رہے ہیں، سائلین کا کہنا ہےکہ ایک کی بجائے 2 جج ہونے چاہیئے۔

عدالت میں پیش ہونیوالے وکلاء کا کہنا ہے کہ صارف عدالت لاہور کی اہم کورٹ ہے، یہاں صارفین کے کیسوں کی تعداد جس طرح بڑھ رہی ہے، اتنی تعداد میں کیسوں کی سماعت کرنا ایک جج کیلئے ناکافی ہے۔

وکلاء کا مزید کہنا تھا کہ صارف عدالت میں جس طرح صارفین کی تعداد اس عدالت سے رجوع کر رہی ہے حکومت کو چاہیے کہ اس عدالت کی افادیت کو دیکھتے ہوئے ججزکی تعداد میں اضافہ کرے۔