میاں نواز شریف کی احسن اقبال کی عیادت کیلئے سروسز ہسپتال آمد

میاں نواز شریف کی احسن اقبال کی عیادت کیلئے سروسز ہسپتال آمد


سٹی 42 : سابق وزیر اعظم نواز شریف وزیر داخلہ احسن اقبال کی عیادت کرنے سروسز ہسپتال پہنچ گئے، نارووال میں وزیرداخلہ احسن اقبال پر جلسے کے دوران قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔

 تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نوز شریف وزیر داخلہ احسن اقبال کی عیادت کرنے سروسز ہسپتال پہنچ گئے۔ میاں نواز شریف نے احسن اقبال کی صحت سے متعلق ڈاکڑوں سے بھی پوچھا۔واضح رہے کہ  نارووال میں وزیرداخلہ احسن اقبال پر جلسے کے دوران قاتلانہ حملہ کیا گیاتھا۔وزیراعلٰی پنجاب نے اپنا ہیلی کا پٹر فوری طورپرنارووال بھجوادیا تھا۔ احسن اقبال کو سروسز ہسپتال میں علاج کیلئے منتقل کر دیا گیا تھا۔

سٹی 42 نیوز کے مطابق نارووال میں کارنر میٹنگ کے بعد احسن اقبال اپنی گاڑی کی جانب جا رہے تھے۔ اسی دوران 21سالہ عابد نامی نوجوان نے ان پر فائرنگ کر دی اور وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کے کندھے پر ایک گولی لگی۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد سروسز ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف سروسز ہسپتال پہنچ گئے جبکہ حملہ آور کو سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

واضح رہے کہ وزیر داخلہ کے علاج کے لئے ڈاکٹرز کو بھی طلب کر لیا گئے تھے جنہوں نے باقاعدہ علاج معالجہ کیا۔احسن اقبال کو ایمرجنسی سے سرجیکل وارڈ منتقل کر دیا گیا۔ آپریشن کیلئےآرتھوپیڈک سرجن رانا ارشد سمیت یورالوجی کی ٹیم شامل تھے۔ جنرل سرجن پروفیسرمحمودایاز نےآپریشن کیا۔ آپریشن میں گولی نکال دی گئی اور آپریشن کامیاب ہو گیا۔ جس کے بعد وزیرداخلہ کو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔

علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے نارروال میں کارنر میٹنگ کے دوران احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے آئی جی پنجاب سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔ انھوں نےہدایت کی تھی کہ وفاقی وزیر داخلہ کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔

یہ بھی ضرور دیکھیں:

خیال رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کی عیادت کیلئے وفاقی وزیر پرویزملک،صوبائی وزیر زعیم حسین قادری، میئر لاہور کرنل مبشر جاوید نے ہسپتال کا دورہ کیا تھا۔زعیم حسین قادری کا کہنا تھا کہ ایک گولی ان کی کوہنی کو چھوکر پیٹ کے نیچے حصہ میں جا لگی۔ اور شکر ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ سروسز ہسپتال میں زیر علاج وزیر داخلہ احسن اقبال کی عیادت کیلئے آئے صوبائی وزیر زعیم قادری کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ پر حملہ افسوسناک ہے اور شدید مذمت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:والد سے ملاقات ہوئی ان کا حوصلہ بلند ہے:احمد اقبال 

 دوسری جانب وفاقی وزیر پرویز ملک نے میڈیا گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ گرفتار ملزم سے تفتیش بھی جاری ہے جیسے ہی کوئی تازہ ترین انکشاف ہوگا منظر عام پر آجائے گا۔سروسز ہسپتل آئے لیگی وزراء کا کہنا تھا کہ اعتراف کرتے ہیں کہ وزیرداخلہ پر ایسا حملہ ہونا سیکیورٹی پر واضح سوالیہ نشان ہے لیکن ملزم جلد اپنے انجام کو پہنچے گا۔

علاوہ ازیں امریکی سفیر ڈیو ہیل نے بھی وزیرداخلہ احسن اقبال پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی مذمت کی۔انہوں نےبیان جاری کیا کہ وہ احسن اقبال کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ برطانیوی ہائی کمشنرکی جانب سےبھی وزیرداخلہ پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ وزیرداخلہ احسن اقبال پر حملہ تشویشناک ہے اور وہ وزیر داخلہ کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔

یہ بھی دیکھیں:

ڈاکٹرز کے مطابق وزیر داخلہ کو سروس ہسپتال منتقل کرنےپرعلاج شروع دیاگیا تھا۔قبل از وقت نارووال ہسپتال میں منتقل کرنے کے بعد ان کے ایکسرے کیے گئے تھے۔ ان کی حالت قدرے بہتر بتائی گئی تھی۔ سروس ہسپتال میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں۔آئی جی پنجاب اور سٹی ای او رائے اعجاز کی جانب سے مختلف اوقات میں دورے بھی لگائے گئےاور خصوصی سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔

سٹی42 ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ احسن اقبال پرقاتلانہ حملے کی ابتدائی تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ کارنر میٹنگ کے منتظم گلفام مسیح اورحملہ آور عابد حسین کےدرمیان فون پرگفتگوہوئی۔ عابد نے گلفام سے وزیرداخلہ کی آمد کا وقت پوچھا۔ ذرائع کے مطابق پولیس کو احسن اقبال کی آمد کی اطلاع ہی نہیں تھی۔ پولیس کو وزیر داخلہ کے گھر سے نکلنے کے بعد 15 پر اطلاع ملی۔ پولیس نے سہولت کارعظیم اشرف اور گلفام مسیح سمیت 4افراد کوحراست میں لےلیا۔

یہ بھی ضرور پڑھیں:شہباز شریف کی مبینہ ’’بہو‘‘ غصے میں آگئی 

 محکمہ داخلہ پنجاب نے احسن اقبال پر حملے کی تحقیقات کیلئے جےآئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی فنانس محمد طاہر کو جےآئی ٹی کا سربراہ مقررکیا گیا ہے۔ ایس ایس پی خالد بشیرچیمہ، فیصل گلزاراعوان، آئی ایس آئی اور آئی بی کے افسران بھی تفتیشی ٹیم میں شامل ہوں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل حملہ آور عابد حسین کو گوجرانوالہ کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ملزم کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالےکردیا۔ ملزم کو سخت سیکورٹی میں عدالت لایا اورلےجایاگیا۔ دوسری جانب احسن اقبال پرفائرنگ کرنے والے ملزم کا اقبالی بیان سامنے آگیا۔ ملزم کا کہنا تھا کہ اسے کسی نے خواب میں کہا کہ احسن اقبال کوگولی ماردو۔