جسٹس محمد انوارالحق کے اعزاز میں الوداعی ریفرنس میں سینئر ججز کی عدم شرکت

جسٹس محمد انوارالحق کے اعزاز میں الوداعی ریفرنس میں سینئر ججز کی عدم شرکت


(ملک اشرف) جسٹس محمد انوارالحق چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کے عہدے سے ریٹائر ہوگئے، اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد، 22 ججز شریک جب کہ سینئر ججز سمیت 26 نے فل کورٹ ریفرنس میں شرکت نہیں کی، نامزد چیف جسٹس اور وکلاء نے جسٹس محمد انوارالحق کی خدمات کو سراہا۔

تفصیلات کے مطابق فل کورٹ ریفرنس میں نامزد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سردار محمد شمیم احمد خان سمیت 22 ججز اور سینئر و جونیئر وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی، نامزد چیف جسٹس سردار محمد شمیم کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس محمد انوارالحق نے انصاف کے بول بالا میں اہم کردار ادا کیا، صوبائی عدلیہ میں اصلاحات، بار اور بنچ میں تعاون اور پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں موثراصلاحات کو نافذ کیا۔

چیف جسٹس محمد انوارالحق نے کہا کہ آج کی تقریب ان کی زندگی کا حاصل ہے، 2010 میں انہوں نے بطور جج حلف اٹھایا، وہ صرف 9 ہفتے بطور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ رہے، ان کے مختصر دور میں ہائی کورٹ میں 10 منزلہ ایڈمن بلاک کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا، بطور چیف جسٹس پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے لیے سروس رولز بنا کر حکومت کو بھیجے، چیف جسٹس کے صوابدیدی اختیارات پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے بورڈ آف مینجمنٹ کو منتقل کیے گئے، ضلعی عدلیہ کا فرانزک آڈٹ ایک مشکل مرحلہ ہونے کے باجود شروع کرایا۔

سابق چیف جسٹس نے بہترین معاونت پر فاضل ججز، جوڈیشل افسران، سٹاف اور وکلاء کا شکریہ بھی ادا کیا، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب، ڈپٹی اٹارنی جنرل پاکستان، وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل، صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنز، بہاولپور، ملتان اور راولپنڈی نے چیف جسٹس محمد انوارالحق کی خدمات کے اعتراف میں ریفرنس پڑھے۔

مقررین نے فاضل چیف جسٹس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات سالوں یاد رکھےجائیں گے، نامزد چیف جسٹس سردار محمد شمیم احمد خان اور دیگر ججز نے گلدستے کے ہمراہ جسٹس محمد انوارالحق کو لاہور ہائیکورٹ سے رخصت کیا۔