ڈالر پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا


(سٹی 42) حکومت کے دعوﺅں کے برعکس مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہونے لگا،انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں 8 روپے اضافہ ہوگیا۔  ڈالر کی قدر میں زبردست اضافے سےتجارتی سرگرمیوں میں بھونچال آگیا۔

سعودی عرب سے آنے والے ڈالرز کا ایکس چینج ریٹ پر کوئی اثر نہیں ہوا، ڈالر سستا ہونے کی بجائے انٹر بینک میں مزید مہنگا ہو گیا، ڈالر میں آٹھ روپے اضافے کے ساتھ قیمت 142روپے ہوگئی ہے، ڈالر کی قیمت میں بڑے اضافے سے تمام روزمرہ کی اشیاء مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط منظور کرنے کی اطلاعات کےباعث ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ آئی ایم ایف جس ملک کو قرضہ دیتا ہے اسکے سامنے شرط رکھتا ہے کہ اپنی کرنسی کو ڈی ویلیو کیا جائے ۔ایسے حالات میں یہی لگ رہا ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف کی ڈیل مکمل ہونے کو ہے۔

کاروباری دن کے آغاز پر ڈالر کی قیمت میں آٹھ روپے کا اضافہ ہوا تو سٹیٹ بنک کو بھی ہوش آیا اور چار گھنٹے گزرنے کے بعد سٹیٹ بنک نے مداخلت کرتے ہوئے ڈالر کی قیمت کو کم کرنے کی کوشش کی اور ڈالر کی قیمت انٹر بینک میں ایک سو اڑتیس روپے تک آگئی۔

ڈالر کی قیمت میں اضافے سے پریشان تاجر اور شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا ،جبکہ پاکستان کا ایمپورٹ بل بھی بڑھے گا۔

 یاد رہے موجودہ حکومت نے انتخابات سے پہلے ڈالر کو ناقابل یقین حد تک سستا کرنے کا وعدہ کیا تھا، پٹرول  سستا کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا،مارکیٹ میں دونوں چیزیں ناقابل یقین حد تک مہنگی ہوتی جارہی ہیں،ادھر  اوگرا ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 روپے 91 پیسے تک اضافہ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے سمری وزارت پیٹرولیم کو ارسال کر دی گئی ہے۔