ماں بچہ صحت پروگرام فائلوں کی نذر ہوگیا

ماں بچہ صحت پروگرام فائلوں کی نذر ہوگیا

( زاہد چودھری ) ماں بچہ صحت پروگرام غیر یقینی صورتحال سے دوچار، 30 جون کو پروگرام کی مدت ختم، تاحال توسیع نہ مل سکی، پونے تین ارب بجٹ اور ایک سالہ توسیع کی سمری پر پیش رفت نہیں ہوسکی، ماں بچہ صحت پروگرام کو ادویات خریداری کیلئے رواں مالی سال میں بجٹ بھی نہیں ملے گا۔

ماں بچہ صحت کو بہتر بنانے کے حکومتی دعوؤں کے برعکس ماں بچہ صحت پروگرام کی مدت میں جون کے بعد توسیع ہی نہ ہوسکی۔ ماں بچہ صحت پروگرام کی مدت 30 جون کو ختم ہوگئی جس کے بعد پروگرام کو مزید ایک سال کیلئے توسیع دینے کی سمری محکمہ پرائمری ہیلتھ نے حکومت کو ارسال کی جس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

ماں بچہ صحت پروگرام کی مدت ایک سال بڑھانے کے ساتھ پونے تین ارب روپے کا بجٹ بھی مانگا گیا ہے جس سے تنخواہوں کی ادائیگی اور لازمی اخراجات ہوسکیں گے تاہم ادویات خریداری کیلئے بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ ماں بچہ صحت پروگرام کو ادویات کا بجٹ نہ ملنے پر گزشتہ مالی سال میں خریدی گئی ادویات سے ہی کام چلایا جائے گا۔

ماں بچہ صحت پروگرام کو توسیع نہ ملنے سے ہزاروں ملازمین غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگئے ہیں اور تنخواہوں کی ادائیگی تاخیر سے ہونے کا خدشہ ہے۔