رانا ثنا اللہ کا میڈیکل کی درخواست پر پراسیکیوشن کو31 جولائی کیلئے نوٹس جاری

رانا ثنا اللہ کا میڈیکل کی درخواست پر پراسیکیوشن کو31 جولائی کیلئے نوٹس جاری

 شاہین عتیق: اینٹی نارکوٹکس عدالت میں رانا ثنا اللہ اوران کے پانچ ساتھیوں کے خلاف منشیات کیس کی سماعت، رانا ثنا اللہ کا پی آئی سی سے میڈیکل کرانے کی درخواست پر پراسیکیوشن کو31 جولائی کے لیے نوٹس جاری، عدالت نے سماعت 9 اگست تک ملتوی کردی۔

سپیشل جج اینٹی نارکوٹکس خالد بشیرنے رانا ثنا اللہ کے خلاف دائرہیروین کیس کی سماعت نواگست تک ملتوی کردی، رانا ثنا اللہ کےوکیل اعظم نذیر تارڑ اورفرہاد علی شاہ ایڈووکیٹ نےاعتراض اٹھا یا کہ ان کوابھی تک چالان کےحوالےسےریکارڈ فراہم نہیں کیا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انکے پاس سےاے این ایف نےکون کون سی چیزیں برآمد کیں تاکہ وہ اپنی چیزوں کوسپرداری پر لےسکیں، رانا ثنا الللہ بیمار ہیں، ان کا تاحال میڈیکل نہیں کرایا گیا اور نہ کھانا گھر سے منگوانے کی اجازت دی جارہی ہے۔

وکلا کی طرف سے میڈیکل کرانے کی درخواست دی گئی جس پرعدالت نے پراسیکیوشن کو31 جولائی کے لیے نوٹس جاری کردیا، اپوزیشن لیڈرشہبازشریف رانا ثنا اللہ سے ملنےعدالت ہہنچے، شہبازشریف کی گاڑی ایم اے اوکالج  کے قریب پولیس نےروک لی جس پرشہبازشریف کو پیدل عدالت آنا پڑا۔ رانا ثنا اللہ نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان پرجھوٹا کیس بنایا گیا ہے، انہوں نے تفتیشی آفیسرکو ہیروئن سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا، انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں انکی عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوگی۔

عدالت کے باہرمسلم لیگ کے رہنما طلال چودھری نے حکومت  پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جتنے مرضی ظلم کرلیں وہ  ڈرنے والے نہیں،  جوڈیشل کمپلیکس  میں پیشی کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

شازیہ بشیر

Content Writer