بزدار سرکار کا نیا کارنامہ سامنے آگیا

بزدار سرکار کا نیا کارنامہ سامنے آگیا

(قیصر کھوکھر)پنجاب کے 18 اضلاع کے ڈی سی گریڈ 18 کے نکلے۔ بیوروکریسی کو موازنے کے لئے بزدار سرکار نے دیگر محکموں کے افسران کو  جونیئر ڈی سی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا.

تفصیلات کے مطابق اضلاع میں محکمہ ہیلتھ اور محکمہ ایجوکیشن کے گریڈ 20 کے افسران کے اوپر گریڈ 18 کے ڈی سی بٹھا دئیے گئے۔جونیئر افسران ڈی سی لگانے سے اضلاع میں انتظامی بحران نے سر اٹھانا شروع کردیا،گریڈ 18 کا ڈی سی لگانا رولز اور ریگولیشن کی مکمل خلاف ورزی ہے۔اضلاع کے محکمہ ہیلتھ اور محکمہ ایجوکیشن کے سینئر افسران نےجونئیر ڈی سی کے ماتحت کام کرنے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

بیوروکریسی کو موازنے کے لئے بزدار سرکار نے دیگر محکموں کے افسران کو  جونیئر ڈی سی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔پنجاب حکومت نے ڈی ایم جی افسران کو نوازنے کے لئے یہ تعیناتیاں کیں ہیں۔ ڈی سی لاہور دانش افضال جونئیر افسر اور گریڈ 20 کی سیٹ پر قابض ہیں،دانش افضال کو سابق چیف سیکرٹری یوسف نسیم کھوکھر کی سفارش پر تعیناتی کی گئی۔

ڈی سی شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ گریڈ 18 کے افسر نکلے۔ ڈی سی ننکانہ منصور احمد راجہ گریڈ 18 کے جونیئر افسر ہیں۔ ڈی سی اوکاڑہ عثمان علی بھی ڈی سی گریڈ سے جونئیر ، ڈی سی گجرات سیف انور جپہ گریڈ 18 کے افسر  ہیں، اسی طرح ڈی سی منڈی بہاؤالدین طارق علی بسرا گریڈ 18 کے افسر ہیں۔

علاوہ ازیں ڈی سی حافظ آباد نوید شہزاد مرزا جونئیر افسر لیکن ڈی سی لگ گئے۔ ڈی سی جہلم راو پرویز اختر بھی گریڈ 18 کے افسر ہیں، ڈی سی سرگودھا عبداللہ نیّر شیخ گریڈ 18 کے افسر ہیں۔ ڈی سی میانوالی عمر شیر چٹھہ بھی جونئیر افسر نکلے۔ ڈی سی بھکر سید موسی رضا بھی گریڈ 18 کے افسر ، ڈی سی ٹوبہ عمر جاوید بھی جونئیر گریڈ 18 کے افسر ہیں۔

ڈی سی خانیوال آغا ظہیر عباس شیرازی بھی گریڈ 18 کے افسر ہیں۔ ڈی سی ساہیوال بابر بشیر بھی گریڈ 18 کے افسر ، ڈی سی وہاڑی وقاص رشید بھی گریڈ 18 کے، ڈی سی پاکپتن احمد کمال مان، ڈی سی رحیم یار خان علی شہزاد، ڈی سی ڈی جی خان طاہر فاروق اورڈی سی چنیوٹ محمد ریاض بھی گریڈ 18 کی افسر ہیں۔