حکومت کا ٹیکس چھوٹ دینے سے انکار

حکومت کا ٹیکس چھوٹ دینے سے انکار

علی رامے: سی پیک پرو جیکٹ پر کنسٹریکشن ٹیکس چھوٹ کی تجویز مسترد، محکمہ خزانہ کا تعمیراتی شعبہ ٹیکس فری کرنے سے انکار، ٹیکسوں کی شرح کم کرنے پر غور شروع کردیا گیا۔

پنجاب کے قومی خزانے میں تعمیراتی شعبے سے حاصل ہونے والے کنسٹرکشن ٹیکس سے کروڑوں روپے میں زرائع آمدن حاصل ہوتی ہے لیکن موجودہ دور حکومت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تعمیراتی شعبے کو مزید وسعت دینے اور آسانیاں پیدا کرنے کے لیے قومی زرائع آمدن کو نظر انداز کرکے کنسٹرکشن کمپنیوں کو سہولیات فراہم کیں ہیں۔ 

سی پیک کے تحت بھی بیشتر منصوبوں پر چینی کنسٹرکشن کمپنیوں سمیت دیگر تعمیراتی اداروں کو چھوٹ تو دی گئی جس سے صوبائی ماحصل متاثر ہوسکتے ہوئے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ توانائی نے 700 میگاواٹ کے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو بھی ٹیکس سے استثنی دینے کی تجویز دی ہے کہ سات سو میگا واٹ پراجیکٹ کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی چینی کنسٹرکشن کمپنی کو دیا گیا ہے اور کنسٹرکشن کمپنی رواں سال اس منصوبے کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب نے سی پیک کے تحت جاری منصوبوں پر ٹیکس چھوٹ دینے کے لیے معاملہ کیبنٹ کمیٹی کی منظوری سے مشروط کیا جس پر کابینہ نے یہ تجویز مسترد کردی ہے۔