نیب کا ترمیمی آرڈیننس نافذ

 نیب کا ترمیمی آرڈیننس نافذ
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(شاہین عتیق) وفاق کی جانب سے جاری نیب کا ترمیمی آرڈیننس نافذ، نیب کو ملزمان کا اب 90 روز کی بجائے 14 روز کا ریمانڈ دیا جائے گا، نیب کو50 کروڑ سے زائد مالیت کے کرپشن کیس پر کارروائی کا اختیار ہوگا، کسی ملزم کو خصوصی کمیٹی کی اجازت کے بغیر گرفتار بھی نہیں کیا جاسکے گا، ٹیکس معاملات بھی نیب کے اختیار سے باہر ہوگئے۔

نیب آرڈینس میں ترمیم ہونے پر وکلاء میں یہ موضوع بحث بنا رہا، اس ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے نیب کو چھوٹے کیسز اور نوے دن کا ریمانڈ حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے، ترمیمی آرڈیننس نے تاجروں کو بھی نیب کے شکنجے سے نکال دیا، اب تاجروں کی انکوائریاں اور زیر التوا مقدمات متعلقہ اداروں کو بھجوا دیئے جائیں گے۔

نیب سرکاری ملازمین یا عوامی عہدیداروں کے خلاف 50 کروڑ روپے سے زائد کرپشن کی انکوائری کرسکے گا جبکہ اس سے کم کے کیسز کی انکوائری نیب نہیں کرسکے گا، نیب کی سکروٹنی کمیٹی بنا دی گئی ہے جس میں چیئرمین نیب، سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، چیئرمین ایس ڈی سی پی، چیئرمین ایف بی آر اور وزارت قانون کے گریڈ 21 کے افسر شامل ہوں گے۔

نیب سیکروٹنی کمیٹی کی اجازت کے بغیر کسی سرکاری افسر کو گرفتار نہیں کرسکے گا اور نہ ہی تفتیش کرسکے گا، نیب کو اب ریفرنس دائرکرنے کے لیے وفاقی سطح پر صدر اور صوبائی سطح پر گورنر سے منظوری لینا لازمی ہوگی، نیب ایک بار بند ہونے والی انکوائری کو دوبارہ نہیں کھول سکے گی، نیب کسی کی جائیداد عدالت کے حکم کے بغیر منجمد نہیں کرسکے گی۔