ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی: چیف جسٹس پاکستان

ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی: چیف جسٹس پاکستان
City42 - CJP

(منیر باجوہ ): چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے لاہور شہر کے 575 ٹیوب ویلوں کے پانی کے نمونوں کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اورنج لائن ٹرین کا ایک ڈبہ کم کر لیتے اور ہسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے کا پلانٹ لگا لیتے، زندگی میں پانی اور ہوا ضروری ہے۔ دونوں ہی ناقص ہیں کیسے زندہ رہیں؟ ریاست اپنیذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پینے کیلئے ناقص پانی کی فراہمی کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ ایم ڈی واسا نے عدالت کو بتایا کہ لاہور شہر میں 575 ٹیوب ہیں، جو زیر زمین پانی پینے کے لیے مہیا کرتے ہیں۔ جبکہ ڈی جی فوڈ نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب بھر میں بوتلوں کے صاف پانی کی 1148 کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔ جن میں سے 412 کمپنیوں کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں جن میں سے 67 کمپنیوں کا پانی معیار کے مطابق تھا۔ جبکہ 145 کمپنیاں بند کر دی گئیں۔ لاہور شہر میں 350 کمپنیاں بوتلوں میں پانی مہیا کر رہی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈی جی فوڈ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پلانٹ والے کے 10 لاکھ بچانے کی فکر ہے لیکن جو اس پانی کو پی کر ہیپاٹائٹس کا شکار ہو رہے ہیں ان کی فکر نہیں۔ ہیپاٹائٹس کا علاج کتنا مہنگا ہے؟ سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ بار سے فوری نمونے حاصل کئے جائیں۔عدالتی حکم پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں سپریم کورٹ پہنچ گئیں اور چیف جسٹس کے چیمبر سے پانی کے نمونے حاصل کیے۔

چیف جسٹس پاکستان نے حکم دیا کہ شہر بھر سے پانی کے 100 نمونے لیکر لیبارٹریوں کو بھجوائے جائیں۔  چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ ہسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے کے لئے اورنج ٹرین کا ایک ڈبہ کم کر دیتے اور فضلہ جات ٹھکانے لگانے کا پلانٹ لگا لیتے۔ ہمیں اس قوم کی حالت بدلنی ہے۔ پنجاب حکومت کو اب اپنی ترجیحات مرتب کرنا ہوں گی۔

مزید جاننے کیلئے ویڈیو دیکھیں