چیف جسٹس پاکستان ڈی جی نیب پربرہم، کھری کھری سنا دیں

چیف جسٹس پاکستان ڈی جی نیب پربرہم، کھری کھری سنا دیں

ملک اشرف: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار  نے ڈی جی نیب سلیم شہزاد پراظہار برہمی کرتے ہوئے حکم دیا کہ نیب کی جانب سے افسران کی تذلیل برداشت نہیں کی جائے گی۔

سٹی 42 نیوز ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے 56 کمپنیوں میں کرپشن کیس کی سماعت شروع کی، تو چیف سیکرٹری پنجاب نے شکوہ کیا کہ نیب میں افسران کو بلا کر انہیں گھنٹوں بٹھایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس پاکستان نے ریلوے خسارہ کا آڈٹ ، رپورٹ پیش کرنے کیلئے ڈیڈ لائن دیدی

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ نیب کو جو اختیار قانون نے دیا ہے اس کے مطابق کاروائی کرے۔ چیف جسٹس پاکستان  نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افسروں کی تضحیک برداشت نہیں کریں گے۔ جو نیب ذمہ دار ہوا تو  ڈی جی نیب سلیم شہزاد آپ یہاں نہیں ہوں گے۔

پڑھنا مت بھولئے:  عدلیہ کو انتخابات سے قبل سیاسی مقدمات کوروک دینا چاہیے:احسن اقبال

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ  قانون کے دائرہ سے باہر نہیں نکلنا۔ چیف سیکرٹریکا کہنا تھا کہ نیب افسروں کو بلا کر ان کے ساتھ سلوک کرتا وہ یہاں نہیں بتا سکتا۔ نیب کے سلوک سے متعلق کمپنیز کے سربراہان خود عدالت کو بتائیں گے۔