ٹرانسپورٹ کے میگا منصوبے حکومت کیلئے درد سر بن گئے

ٹرانسپورٹ کے میگا منصوبے حکومت کیلئے درد سر بن گئے

( علی رامے ) میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین منصوبہ خزانے کو دیمک کی طرح چاٹنے لگے، اورنج ٹرین، میٹرو بس کو فعال رکھنے میں سالانہ 18ارب کے نقصان کا سامنا ہوگا، ٹرین، بس سروس سے آمدن سے ساڑھے5 ارب وصول ہونگے، جبکہ اخراجات 23 ارب سے زائد تک پہنچ چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اربوں روپے کے مقروض صوبے پنجاب کو اب مزید سالانہ اٹھارہ ارب روپے کا اضافی نقصان ہوگا۔ پنجاب حکومت کو اورنج لائن ٹرین اور میٹرو بس سروسز کو فعال رکھنے میں سالانہ 18 ارب کا نقصان ہوگا۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق اورنج لائن ٹرین اور میٹرو بس سروسز سے پنجاب کو آمدن کی مد میں صرف ساڑھے پانچ ارب وصول ہونگے۔

دونوں میگا پراجیکٹس کو فعال رکھنے میں حکومتی اخراجات 23 ارب روپے سے زائد تک پہنچ چکے ہیں، جس پر محکمہ خزانہ پنجاب دونوں منصوبوں کے اضافی اخراجات پورے کرنے کیلئے پریشان ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ان 23 ارب روپے سے کی سالانہ اضافی رقم سے عوامی فلاح کے دیگر سینکڑوں ترقیاتی سکیمیں مکمل ہو سکتی ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق لاہور، ملتان  راولپنڈی، لاہور فیڈر بسوں کے سالانہ اخراجات 15 ارب جبکہ آمدن 3 ارب روپے ہے۔ لاہور میٹروبس کے سالانہ اخراجات 4 ارب جبکہ آمدن 1 ارب تیرہ کروڑ روپے ہے جبکہ لاہور فیڈر بس سروس کے اخراجات ڈھائی ارب جبکہ آمدن صرف 54 کروڑ روپے ہے۔